کویت میں 15 سالہ طویل مدتی اقامہ کے حصول کی شرائط
یہ اقدام ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے سفر میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے
ریاست کویت نے طویل مدتی اقامتی نظام کا نیا قانون متعارف کرایا ہے جو اہل غیر ملکی سرمایہ کاروں اور ان کے اہل خانہ کو 15 سال تک کی اقامت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ اقدام ملک کی جانب سے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے کے سفر میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے۔
قانونی ڈھانچہ اور قانون سازی کا پس منظر
نئے قواعد سنہ 2026ء کے حکومتی فیصلے نمبر 651 کے تحت سرکاری گزٹ میں شائع کیے گئے ہیں جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے لائسنسنگ کی ضروریات اور ان ضوابط سے متعلق ہے جو سنہ 2013ء کے قانون نمبر 116 برائے فروغ براہ راست سرمایہ کاری کے احکامات کے تحت آتے ہیں۔
اس قانونی ڈھانچے کے تحت وزارت داخلہ کا جنرل ڈیپارٹمنٹ آف ریزیڈنسی افیئرز ہیڈکوارٹر براہ راست سرمایہ کاری کے فروغ کے ادارے کی سفارش پر ان افراد کو 15 سالہ سرمایہ کار اقامہ جاری کر سکتا ہے جو مقررہ شرائط اور معیارات پر پورا اترتے ہیں۔
مستفید ہونے والے طبقات
فیصلے میں ان طبقات کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس اقامت سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں۔
لائسنس یافتہ سرمایہ کاری اداروں کے مالکان، شراکت دار، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور اعلیٰ عہدیداران جن کی منظوری براہ راست سرمایہ کاری کے فروغ کا ادارہ دیتا ہے، اس کے علاوہ ان کے براہ راست اہل خانہ جن میں شریک حیات، والدین اور بچے شامل ہیں، 15 سال تک کی اقامت کے اجازت نامے حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
اول: مالی اور سرمایہ کاری کی شرائط
اہل اداروں کے لیے کل سرمایہ کاری کا حجم 5 ملین کویتی دینار (جو تقریباً 16.3 ملین امریکی ڈالر کے مساوی ہے) سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ سرمایہ کا حجم کم از کم 10 لاکھ کویتی دینار ہونا چاہیے اور کویت کے اندر سرمایہ جمع کرانے کا ثبوت فراہم کرنا لازمی ہے۔
دوم: آپریشنل اور روزگار کی شرائط
اقامتی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی خواہش مند کمپنیوں کو ملک کے اندر اپنی عملی موجودگی ثابت کرنا ہوگی اور روزگار کی ضروریات کی تعمیل کرنا ہوگی جس میں کویتی شہریوں کو ملازمت دینے کا کوٹہ بھی شامل ہے جسے براہ راست سرمایہ کاری کا فروغ دینے والا ادارہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر طے کرتا ہے۔
سوم: دستاویزی اور ذاتی شرائط
درخواست گزاروں کو اخلاق سے متعلق سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا کہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور درخواست جمع کرانے کی تاریخ سے کم از کم چھ ماہ تک پاسپورٹ کارآمد ہونا چاہیے۔ کوئی بھی درخواست جس میں جھوٹی معلومات یا جعلی دستاویزات شامل ہوں گی اسے فوری طور پر مسترد کر دیا جائے گا اور اس کے مالک کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
درخواستیں جمع کرانے اور منظوری کا طریقہ کار
حکومت نے منظوری کے طریقہ کار کو آسان بنانے پر توجہ دی ہے، لہذا براہ راست سرمایہ کاری کے فروغ کے ادارے کو مکمل درخواست ملنے کے پانچ کاروباری دنوں کے اندر اپنا فیصلہ جاری کرنا ہوگا۔ تاہم سرکاری حکام اضافی معلومات طلب کرنے کا حق رکھتے ہیں اور اگر درخواست گزار 30 دن کے اندر جواب نہیں دیتے تو درخواستیں خود بخود مسترد ہو جائیں گی۔
تجدید اور تسلسل کی شرائط
اقامتی اجازت نامے مسلسل تعمیل کی ضروریات کے تابع ہیں۔ تجدید کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو میعاد ختم ہونے سے کم از کم 60 دن پہلے درخواست جمع کرانی ہوگی اور تمام قانونی، مالی اور آپریشنل شرائط کے مطابق اپنے کاروباری سرگرمیوں کے جاری رہنے کا ثبوت دینا ہوگا۔
یہ نیا ماڈل کویت کو خطے کے دیگر ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے، جس میں مملکت سعودی عرب کا پریمیم ریزیڈنسی پروگرام اور متحدہ عرب امارات کا گولڈن ریزیڈنسی ویزا شامل ہے، جس سے یہ ملک طویل مدتی قیام کے لیے زیادہ پرکشش بن گیا ہے۔
یہ تبدیلیاں تیل پر انحصار کم کرنے، قومی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور کویت کو ایک فعال علاقائی مالیاتی اور تجارتی مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کی ایک وسیع تر تزویراتی حکمت عملی کا حصہ ہیں جو دنیا بھر سے سرمایہ اور مہارت کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔