ایران کے ساتھ معاہدے پر جلد دستخط ہوں گے، شاید جمعرات یا جمعہ کو: ٹرمپ

تاریخ ابھی یقینی نہیں، ایران کے ساتھ جنگ کا جاری رہنا معاشی تباہی کے خطرے سے دوچار کرنا ہے: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ معاہدے پر جلد دستخط کر دیے جائیں گے تاہم انہوں نے کہا کہ دستخط کی تاریخ ابھی یقینی نہیں ہے۔ فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس کی سائیڈ لائن پر ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا ایران کے ساتھ جس معاہدے پر ہم پہنچے ہیں اس پر جلد جمعرات یا شاید جمعہ دستخط کر دیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس سے قبل یہ توقع کی جا رہی تھی کہ فریم ورک معاہدے، جسے مفاہمت کی یادداشت بھی کہا جا رہا ہے، پر آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ دستخطوں کی تقریب میں شرکت کے لیے جی 7 سربراہی اجلاس کے بعد یورپ میں کیوں نہیں رک رہے تو انہوں نے کہا کہ وہ بالآخر ایسا کر سکتے ہیں۔

اب تک یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس واشنگٹن کی جانب سے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ جائیں گے۔اسی تناظر میں امریکی صدر نے دہرایا کہ واشنگٹن ایران کا افزودہ یورینیم "لے لے گا" خواہ وہ "بے وقعت" ہی کیوں نہ ہو۔ ایک اور سیاق و سباق میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے بہت سے پیسے لیے ہیں اور کسی موقع پر اسے وہ واپس کرنا ہوں گے ورنہ یہ خطرہ رہے گا کہ ممالک ڈالر میں سرمایہ کاری کرنا چھوڑ دیں گے۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ امریکہ-ایران معاہدے کے متوازی کوششوں کے حصے کے طور پر عرب خلیجی ملکوں کے ساتھ ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور تہران کے آلہ کاروں کے معاملے پر بات چیت کرے گا۔ ٹرمپ نے اپنے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان شاندار شراکت داری کی تعریف کی۔ منگل کے روز نیتن یاہو پر کی جانے والی شدید تنقید کے بعد ان کے حوالے سے اپنے لہجے کو نرم کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ بیبی (اسرائیلی وزیر اعظم کا لقب) نیتن یاہو، جو ویسے ایک اچھے آدمی ہیں، وہ کبھی کبھی تھوڑے جذباتی ہو جاتے ہیں، کے ساتھ پوری طرح منصفانہ رویہ اختیار کرنے کے لیے ہماری شراکت داری شاندار ہے۔ امریکی صدر نے لبنان کے حوالے سے اپنے اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کو چھوٹا سا اختلاف قرار دیا۔

اس تناظر میں انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ نے اسرائیل کو ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کے متن کی ایک کاپی بھیجی ہے۔ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یہ مناسب ہے کہ ہم اس معاہدے کو شائع کریں اور ہم نے اس کی ایک کاپی اسرائیل کو بھیج دی ہے۔ ویسے وہ اچھے شراکت دار ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام کے صدر لبنان کے اندر حزب اللہ کو درست طریقے سے نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لبنانی صدر کے آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن کا دورہ کرنے کی توقع ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں جاری رکھنا معاشی تباہی کے خطرے سے دوچار ہے۔ میں ایک چیز نہیں دیکھنا چاہتا، میں معاشی تباہی نہیں دیکھنا چاہتا، اگر صورتحال اسی طرح جاری رہتی تو ایسا کچھ ہو سکتا تھا۔

ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتین دونوں کا ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ان کی غیر جانبداری پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کیونکہ انہوں نے صورتحال کو بہت بہتر بنانے میں مدد کی۔ دونوں رہنما غیر جانبدار رہے۔

ایک اور تناظر میں امریکی صدر نے اصرار کیا کہ امریکہ جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو کم کرنے کے لیے روس اور چین کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس جوہری ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، اس کے بعد روس کا نمبر ہے، چین فعال طور پر اپنے ذخیرے میں اضافہ کر رہا ہے اور پانچ سالوں میں اس کے برابر پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں جوہری تخفیف اسلحہ کے بارے میں ایک معاہدہ کرنا چاہیے، یہ محض شاندار ہو گا، ہمیں اس سب کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں پوری دنیا کو 300 بار تباہ کرنے کی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سچ مچ ہولناک ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہم جوہری تخفیف اسلحہ کے معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو مجھے بہت خوشی ہو گی اور ان دونوں فریقوں میں سے ایک اس کی شدید خواہش رکھتا ہے۔ میں آپ کو بتاؤں گا، دوسرا فریق اتنی شدت سے اس کا خواہش مند نہیں ہے اور ہمیں دونوں کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں