ایران کے ساتھ مفاہمت امریکہ کے لیے فتح یابی کی نمائندگی کر رہی: ٹرمپ

امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر ادا نہیں کرے گا، یہ جھوٹی خبر ہے! امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ مفاہمت امریکہ کے لیے ایک فتح یابی کی نمائندگی کرتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل نیٹ ورک "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ ایران کو 300 ارب ڈالر ادا نہیں کرے گا، یہ جھوٹی خبر ہے! امریکہ کے لیے یہ سب کچھ کامیابی، تیل کی قیمتوں میں کمی اور فتح ہے۔ سٹاک مارکیٹ چیک کریں۔

امریکہ امن کے لیے پرعزم

انہوں نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ امریکہ امن کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اپنی وابستگی کو برقرار رکھیں تاکہ مذاکرات آسانی سے آگے بڑھ سکیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مارکیٹوں میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں اور سٹاک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ امریکی صدر نے لبنان، حزب اللہ اور اسرائیل سمیت مختلف محاذوں پر جامع جنگ بندی تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی۔

امریکی صدر اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے دور بیٹھ کر آن لائن مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔ ثالث کے طور پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے آج اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ 60 روزہ مذاکرات کی مدت کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایرانی معاملے کے ساتھ سابق صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے معاہدے کے مقابلے میں بالکل مختلف انداز اپنا رہا ہے۔ جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ حتمی معاہدے کے تحت ایران کے پاس میزائل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنے کے اپنے عہد پر عمل کرے۔

جے ڈی وینس نے اصرار کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو امریکہ دوسرے طریقے اختیار کرے گا ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ہر حال میں جیتے گا۔ دوسری طرف دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

معاہدے کے متن کے مطابق فریم ورک معاہدے پر دستخط کے 30 دنوں کے اندر ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ ایرانی فریق آبنائے ہرمز کو کھولے گا اور 60 دنوں تک مال بردار جہازوں کو بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت دے گا بشرطیکہ بعد میں اس تزویراتی گزرگاہ کے انتظام کے لیے خطے کے ملکوں کے ساتھ انتظامات پر بات چیت کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں