امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ 60 روزہ مذاکرات کے ذریعے تمام متنازع مسائل حل کرنے کے امکان پر پُرامید ہونے کے باوجود، مبصرین کا خیال ہے کہ چند پیچیدہ مسائل اس اتفاق رائے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ وہ چار اہم نکات یہ ہیں:
• لبنان کا محاذ : ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے کا انحصار اسرائیل کے مکمل انخلاء پر ہو۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس معاہدے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں اپنی فوجیں رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ جمعہ کو جنگ بندی کے اعلان کے باوجود، اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے قصبوں پر فضائی حملے جاری ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
• جوہری پروگرام اور پابندیاں : یہ معاملہ تکنیکی لحاظ سے سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ مفاہمت کی یاد داشت میں یورینیم کی افزودگی اور ذخائر کے مستقبل کا فیصلہ تکنیکی مذاکرات پر چھوڑا گیا ہے۔ خاص طور پر 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر نکالنا یا اس کی سطح کم کرنا، نیز تباہ شدہ جوہری تنصیبات کے معائنے کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔ مزید برآں ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی حتمی معاہدے کو کانگریس میں پیش کریں گے، جہاں قانون سازی کا عمل خود ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
• پاسدارانِ انقلاب : امریکی محکمہ خزانہ کے سابق تفتیش کار جیریمی بانر کے مطابق ایرانی تیل کے شعبے پر پاسدارانِ انقلاب کا کنٹرول ہے۔ لہذا پابندیاں اٹھاتے وقت اس کے قانونی اثرات کو نظر انداز کرنا نا ممکن ہے۔ عبوری معاہدے کے باوجود، پاسدارانِ انقلاب کی موجودگی امریکی کمپنیوں کے لیے قانونی خطرات کا باعث بنی ہوئی ہے۔
• آبنائے ہرمز : ایران کا آبنائے ہرمز پر اپنی رسمی انتظامیہ یا عملی کنٹرول کو منوانے کا مطالبہ ایک اور بڑا تنازع ہے۔ تہران کی قائم کردہ "خلیج آبنائے اتھارٹی" کو اطلاع نہ دینے والی جہازوں کو روکنا مستقبل میں حادثات اور کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے تکنیکی مذاکرات اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے ملتوی کر دیے گئے تھے، تاہم ثالثی کرنے والے فریقین اب ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ ان تمام معاملات کے پیش نظر یہ طے ہے کہ آنے والے دن حیران کن پیش رفت سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔