سویٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے ایرانی امریکی مذاکرات کے التوا کے فوراً بعد تہران نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات بدھ کی رات امریکی اور ایرانی صدور کے درمیان دستخط کی گئی مفاہمت کی یادداشت میں مخصوص شرائط اور شقوں پر عمل درآمد کے آغاز سے مشروط تھے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات کا انحصار امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کی مخصوص شقوں پر عمل درآمد شروع ہونے اور اس کے جاری رہنے پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمت کی یادداشت پر الیکٹرانک اور باضابطہ طور پر دستخط کیے گئے تھے جس کی وجہ سے سویٹزرلینڈ کا اجلاس، جو آج ہونا تھا، فی الوقت غیر ضروری ہو گیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے امریکی فریق کے ساتھ حتمی معاہدے کی تیاری کے لیے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس مقصد کے لیے ضروری مشاورت ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔
مذاکرات شروع کرنے کے لیے ضروری حالات سازگار ہونے کی صورت میں اس کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے یاددہانی کرائی کہ مفاہمت کی یادداشت کے متن کے مطابق مذاکرات کا آغاز شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 کے احکامات پر عمل درآمد شروع ہونے اور اس کے جاری رہنے سے مشروط ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے ) کو بوشہر سمیت حملوں کا نشانہ بننے والی بعض جوہری تنصیبات تک معائنے کے لیے رسائی دینے کا انحصار آئندہ مذاکرات پر ہوگا۔
شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11
ترجمان کی جانب سے ذکر کی گئی پہلی شق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی سے متعلق ہے۔ 14 شقوں پر مشتمل یادداشت کی چوتھی شق میں یہ بات شامل ہے کہ امریکہ 30 دنوں کے اندر ایرانی بندرگاہوں سے اپنا بحری حصار مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ اس کے بدلے میں ایران 60 دنوں تک تجارتی جہازوں کے بغیر کسی فیس کے محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کرے گا (شق نمبر پانچ)۔
لبنان پر اسرائیلی بمباری کے اثرات
جہاں تک دسویں شق کا تعلق ہے تو اس میں یہ طے پایا ہے کہ امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی وہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان سے متعلقہ تمام خدمات، بشمول بینکنگ لین دین، انشورنس، ٹرانسپورٹ وغیرہ کی برآمد کے لیے استثنیٰ جاری کرے گا۔ 11 ویں شق میں امریکی عہد کا ذکر کیا گیا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد ہوتے ہی بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز اور اثاثوں کو مکمل استعمال کے لیے دستیاب کر دیا جائے گا۔
واضح رہے ایرانی ترجمان کے یہ بیانات لبنان میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی کشیدگی کے ساتھ سامنے آئے ہیں جہاں جمعہ کے روز جنوب اور بقاع کے کئی قصبوں پر شدید فضائی حملے دیکھے گئے جس کے نتیجے میں گزشتہ رات سے اب تک تقریباً 47 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوئے ہیں۔