امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ رابطہ کیا جس کے دوران انہوں نے ان سے لبنان میں حزب اللہ گروپ کے ساتھ جنگ بندی پر رضامندی کا مطالبہ کیا۔
این بی سی نیوز کے رپورٹر کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ آپ کو بعض اوقات پرسکون ہونا پڑتا ہے اور اپنے دماغ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے براہ راست بات کی تھی۔ بعد میں امریکی صدر نے "ایکسیوس" کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکہ میں بہت مقبول ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب اسرائیل اور لبنانی حزب اللہ گروپ نے جمعہ کو لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کرلیا۔ اس سے قبل لبنان میں لڑائی کی شدت نے ایران میں جنگ ختم کرنے کے عارضی معاہدے کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کے امکانات کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ لبنان میں لڑائی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی سوئٹزرلینڈ میں آج ہونے والے امریکی ایرانی مذاکرات منسوخ کر دیے گئے جس سے عالمی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے ضروری مذاکرات کے وقت کے بارے میں ابہام بڑھ گیا۔
ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے لبنان کے وقت کے مطابق جمعہ کی شام چار بجے سے کچھ دیر پہلے کہا کہ جنگ بندی اس وقت تک نافذ العمل ہو جائے گی۔ اہلکار، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی ، نے مزید کہا ہماری معلومات کے مطابق آج اس سے قبل فائرنگ کے تبادلے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ اب جنگ بندی میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور قطر کے مذاکرات کاروں نے ایران کی مدد سے اس معاہدے کو حاصل کیا ہے۔
اسرائیل جنوبی لبنان میں رہے گا
دوسری جانب حزب اللہ کے دو ذرائع نے جنگ بندی پر ایران کے اتحادی گروپ کے موقف کے بارے میں کہا کہ ہم نے اپنی طرف سے اس پر عمل کیا ہے۔
اس کے برعکس ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے تصدیق کی کہ اسرائیل نے جنگ بندی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ جب تک حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی، ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اپنی افواج کو جنوبی لبنان میں برقرار رکھے گا جہاں وہ اسرائیل کی شمالی سرحد کے ساتھ ایک علاقے پر قابض ہے۔
لبنان میں کشیدگی، جس میں فضائی حملوں میں 47 افراد ہلاک ہوئے اور حزب اللہ کے ارکان کے ہاتھوں چار اسرائیلی فوجی مارے گئے، مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کیونکہ لبنان میں لڑائی کا خاتمہ وسیع تر امریکی ایرانی معاہدے کی شرائط میں سے ایک ہے۔ عارضی معاہدہ یہ طے کرتا ہے کہ امریکہ اور ایران لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کریں۔ حزب اللہ گروپ کی جانب سے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ داغے جانے کے بعد لبنان خطے میں جاری جنگ کی لپیٹ میں آگیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے گروپ کے خلاف مہم شروع کی اور ملک کے جنوب پر حملہ کر دیا تھا۔