قاليباف کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ جانے والے ایرانی وفد میں کون کون شامل ہے

عباس عراقچی، علی باقری کنی، عبد الناصر همتی، حمید بُرد، کاظم غريب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے اپنے وفد کی سوئٹزرلینڈ روانگی کے باقاعدہ اعلان کے بعد ذرائع نے "العربیہ" کے لیے امریکی ایرانی مفاہمت کے تکنیکی مذاکرات میں شرکت کرنے والے تہران کے وفد کی تشکیل کا انکشاف کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس وفد میں مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قاليباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب علی باقری کنی، مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر همتی، نائب وزیر پیٹرولیم حمید بُرد، نائب وزیر خارجہ کاظم غريب آبادی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی شامل ہیں۔

نیوز ایجنسی "فارس" نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قاليباف اور عراقچی وفد کے اس سفر میں شریک ہوں گے جو آج اتوار کی سہ پہر سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہونے والا ہے۔ ذریعے نے مزید بتایا کہ گزشتہ مذاکراتی ادوار کی طرح اس بار بھی ماہرین کی کمیٹیاں ایرانی ٹیم کے ہمراہ ہوں گی۔ مرکزی بینک کے گورنر عبد الناصر همتی اقتصادی کمیٹی کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ مذاکراتی ٹیم امریکی ایرانی مفاہمت کے تکنیکی مذاکرات میں شرکت کے لیے آج سہ پہر سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگی۔

دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکی ایرانی مفاہمت کے تکنیکی مذاکرات کل اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوں گے۔ ان مذاکرات میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے وفود شریک ہوں گے۔ "العربیہ " کے ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کاروں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتہ کو اس سے قبل تہران میں عراقچی سے ملاقات کی جس میں وہ امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات کو مؤخر نہ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کے پیغامات لائے تھے۔

یہ بیانات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بتائے گئے مثبت ماحول کے درمیان بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے تصدیق کی کہ مندوبین سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کچھنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے وہاں اپنے بھی جلد سفر کے امکان کا ذکرکیا۔ یاد رہے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا گزشتہ دور گزشتہ اپریل میں اسلام آباد پاکستان میں منعقد ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں