ایران-امریکہ مذاکرات کے بعد سوئس نظریں تکنیکی مذاکرات کی ’فوری بحالی‘ پر ہیں
تہران اور واشنگٹن کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں پہلے دور کے مذاکرات کے بعد سوئس دارالحکومت برن نے پیر کو کہا ہے کہ تکنیکی مذاکرات کے لیے شرائط طے کر لی گئی ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ٹیموں نے اتوار کو سوئس ہوٹل برگن سٹاک میں مذاکرات کا آغاز کیا جو گذشتہ ہفتے کے ابتدائی معاہدے کے تحت دو ماہ کے طے کردہ مذاکراتی دور کا حصہ ہے۔
ثالث ممالک پاکستان اور قطر نے کہا کہ مذاکرات کاروں نے پیر کے اوائل میں "60 دنوں کے اندر کوئی حتمی معاہدہ طے کرنے کے طریقہ کار" پر اتفاق کیا اور اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور لبنان میں لڑائی ختم کرنے کے لیے ایک رابطہ چینل قائم کیا گیا ہے۔
سوئس وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، سوئس سہولت کار ثالثین، ایران اور امریکہ کے درمیان 21-22 جون کی رات برگن سٹاک میں جاری گہرے سفارتی مذکرات کے دوران ہونے والی تعمیری پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
یہ طے کیا گیا ہے کہ تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ ہفتے کے باقی دنوں میں ہوٹل میں جاری رہے گا۔
سوئس وزارت نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے دور کے دوران اتفاق کردہ روڈ میپ "نئے تکنیکی مذاکرات کی فوری بحالی کے حالات پیدا کرتا ہے۔"
"ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہماری سفارت کاری کشیدگی کے خاتمے، استحکام اور امن کے لیے کردار ادا کرے"، اس بات پر زور دیتے ہوئے وزارت نے کہا، "سوئٹزرلینڈ اپنی مثبت روایت کے مطابق اس عمل کی حمایت کے لیے تیار ہے۔"