مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ سے مذاکرات کی اجازت دے دی:پاسداران انقلاب کا دعویٰ

رہبر کے حالیہ پیغام کی غلط تشریح کی گئی، مذاکرات کا عمل جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے تہران کی جانب سے واشنگٹن کے سامنے شرائط واضح کرنے کے بعد امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دے دی ہے۔

پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے اسسٹنٹ یداللہ جوانی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کا حالیہ پیغام امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت نہیں کرتا۔ پیر کی صبح ایران انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جوانی نے وضاحت کی کہ کچھ لوگوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کے حالیہ پیغام کی اپنے خواہشات کے مطابق تشریح کی اور اسے مذاکرات کے اصول کو مسترد کرنے کا ثبوت سمجھ لیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اصولی طور پر امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے غلط ہے کیونکہ نظام پہلے سے ہی مذاکرات میں شامل رہا ہے۔

دریں اثنا ثالث ممالک نے سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کا اعلان کیا ہے۔ یہ دور ایک کشیدہ آغاز کے ساتھ شروع ہوا تھا جس میں تہران کی جانب سے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں کا اعادہ شامل تھا۔

دونوں ثالث ممالک، قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر متفق ہو گئے ہیں۔ ثالثوں کے بیان کے مطابق تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی ریزورٹ بورگن اسٹاک میں باقی ہفتے بھر جاری رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں