امریکہ تجارتی جہازرانی پر ایرانی حملے نظر انداز نہیں کرے گا: سینٹ کام کی العربیہ سے گفتگو
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازرانی پر آئندہ کوئی ایرانی حملہ نظر انداز نہیں کرے گا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کا بنیادی مقصد نقل و حمل کی آزادی ہے۔
ترجمان سینٹ کام نے العربیہ کو بتایا، امریکی افواج جہازرانی کے بین الاقوامی راستے کی حفاظت جاری رکھیں گی اور تجارتی جہازوں کے خلاف کسی بھی خطرے کا جواب دیں گی۔ سمندری ٹریفک کی حفاظت علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
ترجمان نے کہا، "ہم تجارتی جہازوں پر ایرانی حملے نظر انداز نہیں کریں گے۔"
ترجمان نے کہا کہ ایرانی فوجی اہداف پر حالیہ امریکی فوجی حملوں کا مقصد مزید حملے روکنا اور جہازرانی کی آزادی کو تقویت دینا تھا، نہ کہ تنازعہ بڑھانا۔
سینٹ کام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکہ کشیدگی میں کمی کے لیے پرعزم ہے لیکن جب تجارتی جہازرانی کو نشانہ بنایا جائے گا تو وہ جواب دے گا۔
آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں امریکی فوج نے ایران پر حملہ کیا جس کے ایک دن بعد یہ تبصرے سامنے آئے ہیں۔ فریقین نے ایک دوسرے پر گذشتہ ہفتے طے پانے والی جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
ایران نے کہا کہ ایک پروجیکٹائل نے جنوبی ایران میں سیرک میں ایک پشتے کے قریبی علاقے کو نشانہ بنایا اور ایرانی بحریہ نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
-
امریکہ ایران مذاکرات کا ایک دور جولائی میں دوحہ میں منعقد ہو گا... "العربیہ" ذرائع
دوحہ میں منجمد اثاثوں کے معاملے پر بات چیت ہو گی... اور پاکستان بعد میں جوہری ...
مشرق وسطی -
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر کا امریکہ پر "مفاہمت کی یاد داشت کی خلاف ورزی" کا الزام
اور "فوری اور سخت جواب" کی دھمکی دی
بين الاقوامى -
امریکہ-ایران جنگ بندی کی غیریقینی،اسحاق ڈاراورایرانی ایف ایم کاعلاقائی استحکام پربات چیت
حالیہ امریکی فوجی حملوں کے بعد حالات دوبارہ عدم استحکام کا شکار
مشرق وسطی