آبنائے ہرمز میں مرضی کے روٹ کھولے گئے تو مشرق وسطیٰ میں تناؤ بڑھے گا : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

ایرانی سفارتکار نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں کوئی بھی غیر ملکی کوشش اور امریکہ کے ساتھ طے شدہ راستوں کی خلاف ورزی کرنے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھے گی۔ جیسا کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف الزامات کے حملوں کا تبادلہ کیا ہے اور باہم ایک دوسرے کو امریکہ ایران مفاہمت کی خلاف ورزی کا الزام دیا۔

الزامات کے اس تبادلے سے پاکستان کی مدد سے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں سے ہونے والی مفاہمتی یادداشت کمزور ہو رہی ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر امریکہ ، ایران کے صدور نے دستخط کیے تھے تاکہ 28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ختم کیا جا سکے۔ جس کے نتیجے میں بڑی تباہی کے علاوہ عالمی تجارت متاثر ہوئی اور توانائی کے بحران کا اندیشہ لاحق ہوگیا۔ جبکہ تیل اور گیس کی قیمتوں سمیت مہگائی کا گراف ہر جگہ اوپر چلا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے کیے گئے امور سے ہٹ کر کچھ اور بندوبست کرنے کی کوشش کرنا محض پیچیدگیوں کو بڑھائے گا اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر کا باعث بنے گا۔

انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ امریکہ و ایران کے درمیان طے ہو چکی مفاہمتی یادداشت کے مطابق کام کریں اور اس سے انحراف کی کوشش نہ کریں۔

دوسری جانب عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے اپنے ایرانی ہم منصب سے کہا 'یہ اہم ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور امریکہ ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کا خاتمہ کرے۔'

عراقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک نہیں چاہتا کہ خلیجی ریاستوں کے درمیان جنگی پھیلاؤ ہو ۔ وہ ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

اتوار ہی کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کور نے کہا کہ پاسداران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کو کنٹرول کیا جاسکے۔ تاکہ اس اہم آبی راستے سے جنگ سے پہلے کی طرح آمد و رفت ممکن ہو اور دنیا کے لیے تیل کی بیس فیصد ترسیل ممکن ہو سکے۔ تاہم خلاف ورزی کرنے والی کشتیوں کے ساتھ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سختی نمٹا جائے گا۔

اس سے قبل جمعرات کے روز پاسداران ایران انقلاب کور نے کہا تھا اومان اور انٹر نیشنل میرین ٹائم آرگنائزیشن نے ایران کے ساتھ کسی مشاورت کے بغیر ایک نیا راستہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی پاسداران نے اس نئے راستے سے آنے جانے والوں کو سختی سے نمٹنے کا انتباہ بھی کیا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ واحد جائز راستہ وہ ہے جو ایران کے کنٹرول میں ہے اور ایرانی ساحل کے قریب سے گزرتا ہے۔

سپریم لیڈر ایران مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر لکھا ہے کہ جب تک ایران آبنائے ہرمز کا انتظام کرے گا امریکی بالا دستی کے خواب اس خطے میں پورے نہیں ہو سکیں گے۔

امریکہ و ایران کے درمیان 18 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران نے اتفاق کیا ہے کہ وہ کاروباری کشتیوں کو محفوظ راستہ دے گا اور ان سے 60 دنوں کے دوران کوئی فیس نہیں لے گا۔ یہی معاملہ خلیج سے اومان کے سمندر تک آبنائے ہرمز میں ہوگا۔

اگرچہ جب سے امریکہ و ایران کے درمیان ماہ اپریل سے جنگ بندی ہوئی ہے ، اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات بھی ساتھ ساتھ جاری ہیں۔ اتوار کے روز ایران نے کہا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈے پر جوابی حملہ کیا ہے۔ تاکہ امریکی حملے کا جواب دیا جا سکے۔

بحرین نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے اور بتایا ہے کہ اس دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے روک دیا ہے۔ کویت نے بھی ایرانی حملے کی مذمت کی ہے اور ایرانی حملے کو سنگین جارحیت قرار دیا ہے جو ایران کی جانب سے طلوع آفتاب کے وقت کی گئی۔

'ایران اب نہیں رہے گا'

ایران کے یہ حملے امریکہ کے کئی حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں، جو ایرانی اہداف پر کیے گئے۔ جس کے بدلے میں ایران نے بھی میزائل داغے۔ جبکہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ادلے بدلے میں حملے کیے جارہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملوں کے تبادلے مزید ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ایران آبنائے ہرمز میں نشانے لیتا رہے گا۔ ان حالات میں بہتری کے لیے دباؤ کی فضا کے ساتھ ہی مذاکراتی عمل کر کے آبنائے ہرمز کو چالو رکھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ یہ بات ایک برطانوی تھنک ٹینک 'رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ' کے ایچ اے ہیلیئر نے کہی ہے۔

امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں ملک اور ان کے اتحادی اس کا احترام کریں گے اور کوئی جنگ شروع نہیں کریں گے اور نہ کوئی جنگی کارروائی کریں گے۔

لیکن دونوں ملکوں نے حملوں کا تبادلہ شروع کر دیا ہے اور مفاہمتی یادادشت کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو ایک بار پھر اندھی تباہی مچانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کو پھر سے جنگ چھیڑنے پر مجبور کر دیا گیا تو پھر ایران باقی نہ بچے گا۔

امریکی فضائیہ نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کے مراکز پر بمباری کی ہے۔ نیز ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا ہے۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے 'ٹروتھ سوشل' پر بھی ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایرانی ڈرون حملے کا جواب دیا ہے جو ایران نے پاناما کے جھنڈے والے جہاز 'کیکو' پر کیا تھا۔واشنگٹن نے بھی جمعہ کے روز اسی طرح کے حملے کیے۔

'اسرائیل لبنان پر پھر حملہ آور ہو گیا'

اسرائیل نے اسی دوران لبنان کے خلاف بمباری کی ہے۔ جبکہ حزب اللہ کے نعیم قاسم نے جنگی خاتمے کی اسرائیلی ڈیل کو مسترد کر دیا ہے۔ اس صورت حال سے امریکہ ایران مفاہمت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ان حملوں کو مفاہمت کی کھلی اور ننگی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

حزب للہ کے رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ نے انتباہ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کیے گئے لبنانی معاہدے پر لبنان کے اندر تنازعہ ہے۔ اس لیے اس معاہدے پر عمل نہیں ہو سکے گا۔

یاد رہے اسرائیل اور لبنان کے درمیان یہ معاہدہ جمعہ کے روز واشنگٹن میں طے پایا ہے۔ جس میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ لبنان سے اسرائیلی فوج کا انخلاء لازمی شرط ہے۔ اس کے بغیر کوئی پائیدار معاہدہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی خطے میں استحکام آ سکتا ہے۔

لبنانی میڈیا نے اتوار کے روز ہی جنوبی لبنان پر پھر سے بمباری اور حملوں کو رپورٹ کیا ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے ایک فوجی کا جنوبی لبنان میں قتل ہوا ہے۔ یہ فوجی لڑائی میں مارا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں