ایران کا مفاہمت کی یا داشت کی کسی بھی امریکی خلاف ورزی پر جواب دینے کا عزم

ہفتے کے آخر میں فریقین کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے دستخط شدہ مفاہمت کی یاد داشت کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

دونوں فریقوں نے ہفتے کے آخر میں ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج منگل کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ کوئی بھی قدم بغیر جواب کے نہیں رہے گا، جیسا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج نے دکھایا ہے، اسلامی جمہوریہ ایران پر ہر حملے کا فوری جواب دیا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات مفاہمت کی یاد داشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی ہوں گے، فطری طور پر اگر یہ خلاف ورزیاں دہرائی گئیں اور جاری رہیں تو اس راستے کو جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مفاہمت کی یاد داشت کو ایران اور امریکہ کے درمیان پہلی عسکری مڈ بھیڑ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن کے درمیان 17 جون کو مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط ہونے کے بعد پہلی بار حملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے خلیج میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیا جو کہ اس کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے امریکی حملوں کا رد عمل تھا، جیسا کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز بتایا تھا۔ یہ سب اس وقت ہوا جب واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں