تہران میں علی خامنہ ای کے جنازے کی تیاریاں، ایران میں جنرل پہلی بار منظرِ عام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران کے نیم فوجی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی قیادت کرنے والے ایک طاقتور جنرل منظرِ عام پر آ گئے ہیں جیسا کہ تہران جمعہ کو سپریم لیڈر مرحوم علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاری کر رہا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کی آن لائن شائع کردہ تصاویر میں دکھایا گیا کہ جنرل احمد وحیدی 86 سالہ خامنہ ای کے جنازے سے متعلق ایک اجلاس میں شریک تھے۔ پھر جمعرات کی رات وہ ان کے تابوت کے برابر بیٹھے ہوئے تھے جب تہران کے مرکز میں سپریم لیڈر کے سابق گھر کے قریب ان کے لیے ایک مختصر تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

ماہرین کا بیان ہے کہ وحیدی امریکہ سے جنگ کے ممکنہ مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کا سخت مؤقف وضع کرنے میں ایک اہم عنصر بن گئے ہیں۔ خیال ہے کہ وہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے براہِ راست رابطے میں رہنے والے ایک مختصر گروہ کا حصہ ہیں۔

خود وحیدی کو آٹھ فروری سے ایران کی جنگ شروع ہونے سے چند ہفتے پہلے سے منظرِ عام پر نہیں دیکھا گیا۔

ایران کے سرکاری میڈیا کی شائع کردہ ویڈیو میں تہران میں خامنہ ای کے احاطے میں ان کے لیے سوگ کی ایک تقریب دکھائی گئی۔ سرکاری میڈیا نے بتایا کہ خامنہ ای کی میت سٹیج پر ایک تابوت کے اندر رکھی تھی جس کے سامنے سرخ گلِ لالہ رکھے ہوئے تھے۔ سامنے چھت سے کاغذی تتلیاں لٹکی ہوئی تھیں۔

سیاہ رنگ میں ملبوس سوگواران نے تابوت سے مس کرنے کے لیے سکارف اور دیگر اشیاء حاضرین کی طرف اچھال دیں جو ایران میں ایک عام رواج ہے۔

بعد میں سرکاری میڈیا نے خامنہ ای کے سرخ پرچم میں لپٹے ہوئے تابوت کی تصاویر دکھائیں۔ یہ عراق کے شہر کربلا میں امامِ حسین کے سنہری گنبد والے مزار پر لہرانے والے پرچم تھا۔

ہفتے کے روز سے ایران خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کرے گا اور ان کی میت ایران اور ہمسایہ ملک عراق دونوں شہروں میں پہنچائی جائے گی۔ جنازے کا آغاز تہران کے موصلای امام خمینی سے ہو گا جہاں حکام خامنہ ای کی یاد منانے کے لیے سڑکوں اور روزمرہ کے معمعلات بند کر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ خامنہ ای نے مغرب کا مقابلہ کرتے ہوئے عشروں تک آہنی ہاتھوں سے ایران کی قیادت کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں