اقتدار کی منتقلی کی تیاری کے لیے حماس ''کمیٹی برائے حکومتی امور'' تحلیل کرنے پر آمادہ

معاہدے کے اگلے مرحلے میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے قاہرہ میں فلسطینی رہنماؤں کے اجلاس متوقع ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

حماس غزہ کی پٹی میں حکومتی امور چلانے والی اپنی ''کمیٹی برائے حکومتی امور ''کو تحلیل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ باخبر ذرائع اور فلسطینی حکام کے مطابق یہ اقدام غزہ کی انتظامیہ کی ازسرِ نو تشکیل اور اقتدار کی منتقلی کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اسی سلسلے میں صحافیوں کو پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جس میں ''اہم پیش رفت ''کا اعلان متوقع ہے۔

حماس کے ایک باخبر ذریعے نے جرمن خبر رساں ایجنسی (ڈی پی اے) کو بتایا کہ غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کی سرپرستی میں پیر کی دوپہر منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

امکان ہے کہ اس دوران ''کمیٹی برائے حکومتی امور ''کو تحلیل کرنے کا فیصلہ سامنے آئے گا، جو گزشتہ کئی برسوں سے غزہ میں حماس کی انتظامی حکومت کے طور پر کام کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدام سیاسی اور انتظامی مفاہمتوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد غزہ میں شہری امور کی ذمہ داری ایک قومی کمیٹی یا ماہرین پر مشتمل غیر سیاسی (ٹیکنوکریٹ) ادارے کے سپرد کرنا ہے۔ اس حوالے سے کئی ماہ سے مختلف تجاویز اور طریقۂ کار پر غور جاری تھا۔

حماس کے ایک رہنما نے بتایا کہ اقتدار کی منتقلی کو آسان بنانے کے لیے عملی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومتی اداروں، فلسطینی دھڑوں اور آزاد شخصیات کی نمائندگی پر مشتمل ایک قومی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو ڈاکٹر علی شعث کی سربراہی میں قائم قومی کمیٹی کو انتظامی اختیارات منتقل کرنے کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے انتظامی اور تکنیکی اداروں نے کسی بھی عبوری انتظام کے ساتھ مکمل تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اس مقصد کے لیے حالیہ عرصے میں متعدد تیاری اجلاس منعقد کیے گئے، جبکہ نئی کمیٹی کے مکمل طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے تک ایک انتظامی شخصیت عارضی طور پر امور چلائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب غزہ میں نازک جنگ بندی معاہدے کو بحال کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔

حماس کے ذرائع کے مطابق ثالثوں نے تنظیم کو ابتدائی مفاہمتوں سے آگاہ کیا ہے، جن کے تحت بعض حساس معاملات، جن میں فلسطینی دھڑوں کے اسلحے اور حکومتی قرضوں کے مسائل شامل ہیں، پر بات چیت مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ معاہدے کے دیگر نکات پر پیش رفت ممکن ہو سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کا ایک وفد ہفتے کے آخر میں قاہرہ واپس جائے گا، جہاں وہ ثالثوں سے براہِ راست ملاقاتیں کرے گا تاکہ طے پانے والی ابتدائی مفاہمتوں کو حتمی شکل دی جا سکے اور مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اسی تناظر میں فلسطینی ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ دو روز کے دوران قاہرہ میں مختلف فلسطینی دھڑوں کے اجلاس متوقع ہیں، جن کا مقصد معاہدے کے اگلے مرحلے سے متعلق اختلافات اور رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے سیاسی عمل کو زیادہ مستحکم انتظامات کی جانب لے جانے کی کوشش کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ان اجلاسوں میں بین الاقوامی نمائندوں کی ممکنہ شرکت بھی زیر غور ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ بعض فریقوں نے ان کی شرکت کو بنیادی مذاکراتی معاملات میں ٹھوس پیش رفت سے مشروط قرار دیا ہے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی کئی برسوں کی جنگ اور کشیدگی کے بعد شدید انسانی اور سکیورٹی بحران سے دوچار ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر یہ اقدامات کامیاب ہوتے ہیں، تو غزہ میں سول انتظامیہ کی ازسرِ نو تنظیم اور شہریوں کے حالاتِ زندگی بہتر بنانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں