مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں بھی سامنے نہ آئے
ان کا دور حکومت ان کے بغیر ہی شروع ہوگیا، 3 بیٹوں نے والد کی نمازِ جنازہ ادا کی اور مجتبیٰ غائب رہے
مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد اور ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے مسلسل دوسرے دن بھی غائب رہے۔ تقریباً باقی تمام لوگ شریک ہوئے۔
سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے تینوں بیٹوں نے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور سرکاری ٹیلی ویژن نے مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای سمیت ملک کی اعلیٰ سرکاری شخصیات کے مناظر دکھائے۔ صدرِ جمہوریہ مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قاليباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجئی اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سب وہاں موجود تھے۔ تاہم ایران کے سب سے اہم شخص اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظرنامے سے غائب تھے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ تقریب ان کے والد کے جانشین کے طور پر منتخب ہونے کے بعد ایرانی عوام کے سامنے پہلی بار نمودار ہونے کا سب سے اہم موقع سمجھی جا رہی تھی۔
اس لمحے تک ایسا لگتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا دورِ حکومت شروع ہو چکا ہے لیکن یہ شروعات ان کے بغیر ہی ہوگئی ہیں۔ کیونکہ 28 فروری یعنی ایران میں جنگ کے پہلے دن سے ہی مجتبیٰ کی صحت کی حالت کے بارے میں کئی کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کے قتل کے آٹھ دن بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔ اسی لمحے سے سوالات شروع ہو گئے تھے کیونکہ وہ عوامی طور پر سامنے نہیں آئے۔ نہ انہوں نے کوئی براہِ راست خطاب کیا ۔ کوئی ویڈیو نہ ہی کوئی نئی تصویر منظرِ عام پر آئی ہے۔
اتوار کے روز بھی ان کے سامنے نہ آنے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا ان کے زخم انہیں سامنے آنے سے روک رہے ہیں؟ یا سکیورٹی خدشات انہیں عوام کی نظروں سے دور رہنے پر مجبور کر رہے ہیں؟ اور ایران کا سب سے اہم شخص اپنا عہدِ حکومت کیسے شروع کر رہا ہے جبکہ ایرانیوں نے انہیں اب تک دیکھا بھی نہیں ہے؟
مارچ میں ایک ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ مجتبیٰ معمولی زخمی ہوئے ہیں اور وہ اب بھی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں لیکن امریکی مؤقف نے اس پر شک کا اظہار کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ اب یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مجتبیٰ اب بھی زندہ ہیں یا نہیں۔ اپریل میں اخبار ’’ دی ٹائمز ‘‘ نے کہا کہ مجتبیٰ قم میں زیرِ علاج ہیں، ان کی حالت تشویشناک ہے اور وہ حکومت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ پھر ’’ رائٹرز‘‘ نے ان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان کا چہرہ زخمی اور مسخ ہو چکا ہے لیکن وہ اب بھی اپنی تمام تر ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ برقرار ہیں۔
مئی میں ایران نے تردید کی مہم شروع کی اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان کے زخم معمولی ہیں اور صرف پیر، کمر کے نچلے حصے اور کان کے پیچھے لگنے والے ایک زخم تک محدود ہیں۔ اس کے بعد وزارتِ صحت کے ایک اہلکار نے کہا کہ زخم سطحی تھے اور ان کی وجہ سے کوئی عضو ضائع ہوا، نہ ہی کوئی مستقل معذوری ہوئی۔
تاہم 6 جون کو نظام کے اندر سے پہلا واضح اعتراف سامنے آیا جب مجلسِ خبرگانِ رہبری (ماہرین کی کونسل) کے رکن احمد خاتمی نے بیان دیا کہ مجتبیٰ کی ٹانگ کا زخم اس حد تک شدید تھا کہ ڈاکٹروں نے اسے کاٹنے کے امکان پر بھی بحث کی۔ اس کے بعد وہ اسے بچانے میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے تصدیق کی کہ اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ایرانی رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای کے عوامی طور پر مسلسل غائب رہنے نے ایرانی سیاسی حلقوں کے اندر ان خدشات کے بارے میں بڑھتے ہوئے سوالات کو پیدا کیا ہے کہ ملک کے معاملات کو درحقیقت کون چلا رہا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب اس بحران نے اقتدار کے دھڑوں کے درمیان بے مثال اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
آخری رسومات سے پہلے کے دنوں اور ہفتوں میں کھلی سیاسی کشمکش کی حالت دیکھی گئی۔ اعلیٰ ایرانی حکام اور ممتاز سیاسی شخصیات نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے پس منظر میں ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کیے۔ ان الزامات میں مخالفین کو وہم پرست، غدار اور بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والا قرار دینا بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات پر عمل نہ کرنے اور ان کے فیصلوں میں ہیرا پھیری کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے۔
ان اختلافات پر قابو پانے کی کوشش میں مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک احتیاط سے تیار کردہ تحریری بیان جاری کیا، لیکن امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کے مطابق اس اقدام نے تنازع کو پرسکون کرنے کے بجائے اس کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا۔ سخت گیر دھڑے کے حامیوں نے رات کے اجتماعات کے دوران نعرے بازی جاری رکھی اور اصرار کیا کہ وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک کہ سپرلیم لیڈر خود سامنے نہ آئیں یا کوئی آڈیو ریکارڈنگ جاری نہ کریں۔ جنازے کی رسومات کے خاتمے کے ساتھ ہی مجتبی خامنہ ای کو متعدد حساس عہدوں پر تقرریوں کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان عہدوں میں عدلیہ کی سربراہی، سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے اور 'بسیج' فورس کی قیادت اور ان کے اپنے دفتر کے سربراہ کا عہدہ شامل ہے۔
ایرانی حکام کا خیال ہے کہ یہ تقررییاں اس بات کا واضح اشارہ ہوں گی کہ رہبرِ اعلیٰ نظام کے اندر کس دھڑے کی حمایت کو ترجیح دیتے ہیں۔ 'پاسدارانِ انقلاب' اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قاليباف ان کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ قیادت کے منصب تک ان کی پہنچ کے سب سے بڑے حامی تھے۔ سخت گیر دھڑے نے ایک دوسرے امیدوار کی حمایت کی تھی۔
کئی سال پہلے ایران میں ہمیشہ شدید سیاسی مقابلہ دیکھنے کو ملتا تھا، جو کبھی کبھی کھل کر سامنے آ جاتا تھا۔ تاہم یہ تقسیم عام طور پر قدامت پسند اور اصلاح پسند دھڑوں کے درمیان ہوتی تھی۔ جہاں قدامت پسند اس "انقلابی" اور مغرب دشمن نظریے پر قائم رہنے کی کوشش کرتے تھے جس پر "اسلامی انقلاب" کی بنیاد رکھی گئی تھی جبکہ اصلاح پسند تبدیلی لانے کی کوشش کرتے تھے لیکن وہ اکثر اسے حاصل کرنے میں ناکام رہتے تھے۔ یہ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا علی خامنہ ای کے بیٹے اور اقتدار میں ان کے وارث مجتبیٰ خامنہ ای 6 دنوں تک جاری رہنے والی ان رسومات میں سے کسی میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
شیڈول کے مطابق علی خامنہ ای کی میت اتوار کی شام تک رکھی رہی۔ اس کے بعد اسے پیر کے روز دارالحکومت کی سڑکوں پر طے شدہ جنازے کے جلوس کے لیے تیار کیا جا رہا۔ حکام نے اتوار اور پیر کے روز سرکاری تعطیل کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکام نے بتایا کہ وہ صرف تہران میں 15 سے 20 ملین افراد کی شرکت کی توقع کر رہے ہیں۔ پیر کو تہران میں جلوس کے بعد تابوت کو ایران اور عراق کے کئی شہروں میں لے جایا جائے گا۔ تدفین کی رسومات جمعرات کو شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں ادا کی جائیں گی۔ مشہد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جائے پیدائش ہے۔
واضح رہے سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ایران کی قیادت کی، یہاں تک کہ وہ 86 برس کی عمر میں قتل ہو گئے۔ ان کا جنازہ گزشتہ مارچ میں ہونا طے تھا لیکن جنگ کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔