لبنان کے کچھ مسیحی دیہات اسرائیل کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں : نیتن یاہو کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں واقع کچھ مسیحی آبادی کے دیہات چاہتے ہیں انہیں بھی اسرائیلی قبضے میں لے لیا جائے۔ تاکہ وہ اسرائیل کا حصہ بن جائیں۔ نیتن یاہو کے بقول وہ امن والے ماحول میں آنا چاہتے ہیں تاکہ حزب اللہ سے محفوظ رہیں۔

اسرائیل جس نے جنوبی لبنانی علاقے پر قبضہ کر کے ایک نام نہاد سیکیورٹی زون بنایا اور آئے روز جنوبی لبنان کو بمباری کا نشانہ بناتا ہے اسی کے کچھ مسیحی دیہات کے بارے میں اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ دعویٰ اتوار کے روز سامنے آیا ہے۔

دو مارچ سے شروع ہوئی اب تک کی لبنان میں لڑی جانے والی اس آخری جنگ کے دوران 4300 کے قریب لبنانی قتل کیے جا چکے ہیں اور بارہ لاکھ کے لگ بھگ لبنانیوں کو اپنے گھروں کی تباہی اور اسرائیلی بمباری کے خوف سے نقل مکانی کرنا پڑا تھی۔ تاہم اب اسرائیل اور لبنان کے مسیحی صدر جوزف عون کے زیر قیادت حکومت کے درمیان امریکہ نے ایک معاہدہ کرایا ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کے باوجود اسرائیل کا لبنانی علاقے خالی کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آرہا۔ بلکہ نیتن یاہو نے کچھ مزید لبنانی دیہاتوں کے بارے میں دعویٰ کر دیا ہے۔

'فاکس نیوز' کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا لبنان کے کچھ مسیحی دیہاتوں نے خود کہا ہے کہ انہیں اسرائیل میں شامل کر لیا جائے۔ کیونکہ وہ حزب اللہ کے مخالف ہیں۔ حزب اللہ ان مسیحیوں کو قتل کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ اسرائیل مسیحیوں کو حزب اللہ سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ جیسا کہ اسرائیل ہر جگہ مسیحیوں کے لیے یہی کام کرتا ہے۔تاہم انہوں نے ان مسیحی دیہاتوں کا نام ظاہر کیا ہے نہ ان کے بارے میں مزید کوئی تفصیل بتائی ہے۔

دوسری جانب مسیحیوں کے دیہات نے جمعہ کے روز میڈیا میں آنے والی اس سلسلے کی رپورٹس کی تردید کردی تھی۔ کہ ان دیہات کی طرف سے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست کی گئی ہے۔ ان مسیحی دیہاتوں کا کہنا ہے کہ کوئی اختیار یا قانونی حق اتنا بڑا فیصلہ کرنے کا نہیں ہے۔

ان دیہاتوں نے لبنانی قومیت کے ساتھ اپنی گہری کمٹمنٹ ظاہر کرنے کے حوالے سے کہا ہم اپنی سرزمین پر ہیں اور اپنے لبنانی پرچم کے وفادار ہیں۔ یہ ہماری قومی شناخت ہے۔ یاد رہے ابھی چند روز پہلے ہی جب جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ لبنان کے براہ راست مذاکرات کے حق میں دلائل دیے تھے تو یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت لبنان کا ایک انچ بھی اسرائیل کو نہیں دے گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ صدر جوزف عون ان مسیحی دیہاتوں کے پس منظر میں ہی یہ بات کر رہے تھے یا ان کی مراد وہ نام نہاد اسرائیلی ساختہ سیکیورٹی زون کا علاقہ تھا۔

اسرائیل کی شروع ہونے والی جنگ سے اب تک اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں کئی مسیحی دیہات کو گولہ باری اور بمباری کا نشانہ بنا چکی ہے۔ کئی دیہات کو جبری خالی بھی کرا چکی ہے جبکہ بعض مسیحی دیہات کے عوام نے اسرائیلی حکم کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دہیات خالی کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین نہیں چھوڑیں گے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ان مسیحی دیہات میں بھی شہری انفراسٹرکچر اور مکانات سمیت ہر چیز کو تباہ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے مقامی کمانڈر فون کر کے مسیحی دیہات کے میئرز وغیرہ کو حکم دیتے رہے کہ وہ حزب اللہ کوان دیہاتوں میں نہ آنے دیں۔

ایک ریاستی تقریب کے دوران اتوار ہی کے روز نیتن یاہو نے کہا اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک شمالی اسرائیل میں اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہوگا۔

دریں اثنا اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر نے جنوبی لبنان میں قائم 'بیو فورٹ کیسل' کا دورہ کیا ہے۔ وہ اتوار کو جنوبی لبنان میں داخل ہوئے تھے۔ اس موقع پر دوٹوک کہا کہ اسرائیلی فوج اس علاقے سے ہر خطرے کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گی۔ ان کا یہ کہنا امریکی نگرانی میں حالیہ اسرائیل لبنان معاہدے کے باوجود تھا۔

ادھر نیتن یاہو نے 'فاکس نیوز' کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران میں جنگ روکنے پر صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے اختلاف کا بھی ذکر کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہم امریکہ کے ساتھ شاندار تعلقات رکھتے ہیں۔ جیسا کہ اتحادیوں کے درمیان تعلقات کی تعریف کی جاتی ہے۔

ہم ننانوے فیصد امور میں باہم ایک ہوتے ہیں۔ لیکن جس طرح ایک گھر میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ دوستوں میں بھی کچھ امور پر سوچ میں فرق ہو سکتا ہے۔ وہی صورت حال ہمارے درمیان ہے۔ لیکن ہم ہر معاملے پر کھل کر بات کرتے ہیں اور اپنی بات کہتے ہیں۔

نیتن یاہو کے یہ خیالات جن میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو جانتا ہے کہ 'باس کون ہے۔' حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم کو کھلی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں بعض منفی القابات سے بھی نوازا ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے جلد امریکہ کے دورے پر آنے کا بھی کہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size