ایرانی میڈیا نے ملک کے جنوب میں واقع شہر بوشہر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی ہے۔
بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ جو ایران اور مشرق وسطیٰ میں جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے والی پہلی تنصیب ہے بوشہر شہر کے جنوب مشرق میں 17 کلومیٹر کے فاصلے پر خلیج عرب کے ساحل کے ساتھ واقع ہے۔ یہ تنصیب تقریباً 2.5 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں ری ایکٹر کی عمارت اور دیگر معاون ڈھانچے شامل ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جمعرات کے روز نئی لڑائی شروع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ میں کئی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ کشیدگی سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کی تقریبات شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل سامنے آئی ہے۔
ایرانی وزارت صحت نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں گذشتہ دو روز کے دوران کم از کم 14 افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کے تعلقات عامہ کے سربراہ حسین کرمانپور نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ جنگ بندی کے دوران امریکہ نے بدھ اور جمعرات کو ایران کے 5 صوبوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 14 افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 47 افراد اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
یہ کشیدگی آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ امریکی حملے انہی کے جواب میں کیے گئے جبکہ تہران نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ یہ ایران کی جانب سے جہازوں پر بمباری کا جواب ہے۔ اگر یہ سلسلہ دوبارہ ہوا تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔
صدارتی طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانیوں نے معاہدہ کرنے کے لیے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے انہیں بہت سختی سے مارا ہے۔ جب انہوں نے حملہ کیا تو ہم نے ان سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دیا۔
ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکی حملے تجارتی جہازوں کے خلاف ایرانی حملوں کے بدلے میں 20 کے مقابلے میں ایک کے تناسب سے کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا عبوری معاہدہ ختم ہو چکا ہے ۔ انہوں نے تہران کے ساتھ کسی بھی نئے مفاہمت کے قائم رہنے کے امکانات پر شک کا اظہار کیا۔