درجنوں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر چڑھائی کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یہودی آباد کاروں کے ایک جتھے نے بدھ کے روز مسجد اقصیٰ پر یلغار کی ہے۔ یہ یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ کے صحن کی طرف لپکے۔ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے والے یہودی آباد کاروں کی تعداد لگ بھگ 112 بتائی گئی ہے۔

اطلاعاتی مرکز اور یروشلم میں کام کرنے والے انسانی حقوق گروپ کی رپورٹ کے مطابق یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کے لیے مقرر کردہ گیٹ اور حصے کی طرف سے داخل ہو گئے۔ اسرائیلی فورسز کے اہلکار بھی ان کے ساتھ تھے۔وفا نیوز ایجنسی کے مطابق جو مسجد میں یہودی رسومات کی ادائیگی کے دوارن بھی ان یہودی آباد کاروں کے ساتھ رہے۔

خیال رہے مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ اسے الحرم الشریف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن اس پر اور اس کے گرد و پیش کے علاقے پر اسرائیل فوج نے جون 1967 سے قبضہ کر رکھا۔ اس قبضے کو پچھلے مہینے پورے ساٹھ سال ہو گئے ہیں۔

ریکارڈ کے مطابق اور ایک اصولی معاہدے کے مطابق یہ علاقہ اردن کے محکمہ اوقاف کے انتظام میں ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسرائیلی فورسز اور یہودی آباد کار جب چاہتے ہیں مسجد اقصیٰ پر یلغار کر دیتے ہیں۔ یہودی آباد کار دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ در اصل ان کے یہودی ٹیمپل کی جگہ ہے۔
اسرائیلی حکومت کے متشدد خیالات اور پس منظر کے حامل وزیر بھی کئی بار مسجد اقصیٰ پر اس چڑھائی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے علاوہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے انتہا پسند ارکان بھی بار ہا یہ جسارت کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں