اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر ردعمل دیا ہے، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں اسرائیل معاہدوں کے تحت لبنان سے انخلا کرے گا۔
کاٹز نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر لکھا:ہم نے لبنان میں داخل ہونے کے لیے کسی سے اجازت نہیں مانگی اور نہ ہی وہاں رہنے کے لیے ہمیں کسی اجازت کی ضرورت ہے۔
اسرائیلی اخباریدیعوت احرونوت نے جمعرات کے روز کاٹز کے حوالے سے کہا کہ:ہمارا حق اور فرض ہے کہ ہم گلیل کے رہائشیوں اور اسرائیلی شہریوں کو حزب اللہ کے خطرات سے محفوظ رکھیں، جو ایک ''دہشت گرد تنظیم'' ہے اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کاٹز نے مزید کہا:میں اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہوپہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ ہم لبنان میں سکیورٹی زون میں موجود رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر وہیں سے کارروائی کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ پورے لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کر دیا جائے اور شمالی علاقوں کے رہائشیوں کو لاحق خطرہ ختم ہو جائے۔
ٹرمپ کا بیان
بدھ کے روز امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلا لے گا، کیونکہ وہ خود یہ قدم اٹھانا چاہتا ہے، اگرچہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہوکے بیانات اس کے برعکس اختلاف کی نشاندہی کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے انقرہ میں منعقدہ نیٹوسربراہی اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے انخلا کے معاملے پر بات کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا:جی ہاں، میرا خیال ہے کہ وہ ایسا کریں گے اور میرا یہ بھی ماننا ہے کہ وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہمارا ایک معاہدہ موجود ہے۔ جی ہاں، وہ انخلا کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھیں گے۔
جب تک حزب اللہ خطرہ ہے، انخلا نہیں
وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہونے گزشتہ ہفتے ان لبنانی علاقوں کا دورہ کیا جو اسرائیلی افواج کے قبضے میں ہیں اور وہاں موجود فوجیوں کو بتایا کہ جب تک ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اسرائیل کے لیے خطرہ بنی رہے گی، اسرائیل جنوبی لبنان سے انخلا نہیں کرے گا۔
اسرائیلی اور لبنانی حکومتوں نے 26 جون کو امریکی ثالثی میں ایک سکیورٹی معاہدہ طے کیا، جس کے تحت اسرائیل دو علاقوں کا کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے کرے گا۔