مجتبیٰ کی عدم موجودگی میں علی خامنہ ای کی تدفین مکمل
نیا سپریم لیڈر اپنے والد کے قتل کے بعد سے منظر عام سے مسلسل غائب
ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی میت کو جمعرات کے روز ملک کے شمال مشرق میں واقع ایران کے مقدس ترین مذہبی مقام مشہد میں سپرد خاک کیا جا رہا ہے۔ ان کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ گذشتہ فروری میں ہونے والے اس حملے کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے جس میں ان کے والد ہلاک ہو گئے تھے اور جس کے نتیجے میں وہ خود بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔
یہ تدفین ایک ہفتے تک جاری رہنے والی بڑے پیمانے پر جنازے کی تقریبات ،عوامی اجتماعات اور سوگ کے مناظر کے بعد عمل میں آئی ہے جو جنگ بندی کے چند ہفتوں بعد امریکہ کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے درمیان ہوئی۔
جمعرات کی صبح مشہد کی سڑکوں پر سوگواروں کا ہجوم امڈ آیا جبکہ امام رضا کے مزار کا سنہری گنبد اور مینار سورج کی روشنی میں چمک رہے تھے۔ شرکاء ایرانی پرچم، خامنہ ای کی تصاویر اور انقلابی نعروں پر مبنی بینر لہراتے رہے۔
گذشتہ ہفتے کے دوران جب خامنہ ای کی میت کو ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جایا گیا تو مذہبی رہنماؤں اور اسلامی جمہوریہ کے کمانڈروں نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ جنازے کی تقریبات میں بڑی تعداد میں شرکت کریں تاکہ مذہبی طبقے کی زیر قیادت نظام کی طاقت اور اس کے نظریاتی جوش و خروش کے ساتھ ساتھ عوامی اثر و رسوخ کا مظاہرہ کیا جا سکے۔
تاہم رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران اگرچہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی امریکی-اسرائیلی فوجی مہم سے بچ گیا ہے مگر اسے اب بھی اندرونی بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے جبکہ خامنہ ای کے 37 سالہ دور حکومت کی میراث ملک کے اندر شدید تقسیم اور اختلافات کا باعث بنی ہوئی ہے۔
مجتبیٰ کی عدم موجودگی کا معمہ
مجتبیٰ خامنہ ای جس کو اس کے والد کے قتل کے ایک ہفتے بعد مذہبی کونسل نے نیا رہبر اعلیٰ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا کہاں ہے یہ ایران کے عوام کے لیے اب بھی ایک معمہ ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای 28 فروری کو اپنے والد کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے کبھی منظر عام پر نہیں آئے۔
اگرچہ ان کے نام سے تحریری بیانات جاری کیے گئے ہیں لیکن ان کی کوئی تصویر یا ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ جاری نہیں کی گئی ہے۔
مجتبیٰ اسی حملے میں شدید زخمی ہو گئےتھے جس کے نتیجے میں ان کے چہرے پر نشانات پڑ گئے تھے اور اس کے اعضاء کو شدید چوٹیں آئی تھیں۔
تہران میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے زخموں سے صحت یاب ہو رہے ہیں مگر وہ ابھی اس قابل نہیں کہ عوامی سطح پر نمودار ہو سکیں، جبکہ سکیورٹی ادارے بھی امریکہ کی جانب سے کسی نئے حملے کے خدشے کے پیش نظر اس کے منظر عام پر آنے کو محدود رکھنا چاہتے ہیں۔
مشہد شہر میں سوگواروں کے ہجوم کے دوران جنازے کے جلوس کے پہنچنے کے انتظار میں کچھ شرکاء نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے انتقام کے نعرے بھی لگائے۔
خامنہ اi اور ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ تہران اور ایران میں شیعہ مرجعیت کے مرکز شہر قم کے علاوہ عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں پہلے ہی ادا کی جا چکی ہے۔
ہر جلوس میں سڑکیں بڑے ہجوم سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں جس میں شیعہ نعرے اور انقلابی ورد کیے گئے۔
طویل دور حکومت اور م تنازعہ میراث
یہ جنازہ ایران کے لیے ایک اہم موڑ پر ہو رہا ہے کیونکہ یہ خامنہ ای کے تقریباً چار دہائیوں پر محیط دور حکومت کا اختتام ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مذہبی قیادت کے خلاف ملک گیر عوامی احتجاج کے حالیہ لہر کو چند ماہ ہی گزرے ہیں۔
سکیورٹی فورسز نے ان مظاہروں کو کچل دیا تھا جو پابندیوں کی وجہ سے معاشی مسائل میں اضافے کے باعث بھڑکے تھے۔ سکیورٹی فورسز نے ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کیا جس کا انداز گذشتہ چند سالوں کے دوران ہونے والے تشدد کے دیگر واقعات جیسا ہی تھا۔
خامنہ ای کو اسلامی انقلاب کے ایک دہائی بعد سنہ 1989ء میں ایران کا رہبر اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا اور انہوں نے دہائیوں تک سیاسی و اقتصادی اور عسکری طاقت کو مضبوط کیا۔
یہ کوشش جس نے منتخب صدر اور پارلیمنٹ کو بڑے پیمانے پر غیر موثر کر دیا تھا پاسداران انقلاب کے ساتھ ہم آہنگی سے انجام دی گئی جن کا اثر خامنہ ای کے دور حکومت میں بڑھتا رہا۔
مجتبیٰ خامنئی کو انقلابی گارڈز کی حمایت سے تعینات کیا گیا ہے جنہیں اب ایران میں سیاسی اور تزویراتی فکر پر حاوی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔