خلیجی ممالک کی جانب سے کویت اوربحرین پر ایران کے حملوں کی شدید مذمت

حملے دونوں ملکوں کی خودمختاری پر کھلم کھلا حملہ اور واشگاف خلاف ورزی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ملکوں نے بحرین اور کویت کو نشانہ بنانے والے ایرانی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے جو خلیجی ممالک کے خلاف ایران کی جانب سے دوبارہ کشیدگی بڑھانے کا اشارہ ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن نے تہران کے خلاف اپنے لہجے کو سخت کر دیا ہے اور ایران کے خلاف نئے فوجی حملے کرنے کا کہا یہ ممکنہ حملے ان فضائی حملوں کے بعد کیے جا سکتے ہیں جن میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا جو آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کے تین ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔

اسی دوران خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ یہ حملے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایران سلامتی و امن کو مستحکم کرنے اور بحران کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے اپنے رویے پر قائم ہے۔ جی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے دونوں ملکوں کی خودمختاری پر کھلم کھلا حملہ اور واشگاف خلاف ورزی ہیں۔ ایسے حملے شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی، استحکام اور تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ یہ حملے بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

وسیع خلیجی یکجہتی

اسی تناظر میں خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے مملکتِ بحرین اور ریاستِ کویت کے ساتھ کونسل کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور اپنی سلامتی و استحکام برقرار رکھنے اور اپنے شہریوں و مقیم افراد کے تحفظ کے لیے ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کی۔

کویت میں 13 ڈرون

کویت کی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف نے اعلان کیا کہ کویتی فضائی دفاع نے دو بیلسٹک میزائلوں اور 13 دشمن ڈرونز کا سراغ لگایا جنہوں نے کویت کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

بیان کے مطابق ان کا کامیابی سے راستہ روکا گیا اور ان سے بہتر طور پر نمٹا گیا۔ ان حملوں میں کسی مادی نقصان یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

کویتی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف نے کہا کہ کویتی فضائی دفاع نے واضح کیا ہے کہ جو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں وہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کا نتیجہ تھیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کی طرف سے جاری کردہ سلامتی و تحفظ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی۔

ایران کا رویہ جارحانہ ہے: بحرین

دوسری طرف بحرین نے انکشاف کیا کہ ایران مملکت میں شہریوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اپنے مجرمانہ حملوں کے ذریعے جارحانہ رویہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ بحرین نے واضح کیا کہ اس نے ایران کے متعدد غدارانہ فضائی حملوں کا مقابلہ کیا، انہیں روکا اور تباہ کر دیا۔

نتائج کا ذمہ دار ایران ہے: سعودی عرب

سعودی وزارت خارجہ نے کویت اور بحرین پر ایران کے بار بار ہونے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور انہیں مسترد کردیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

سعودی عرب نے ایران کو ان ظالمانہ حملوں کو جاری رکھنے کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا اور خطے کی سلامتی، استحکام اور تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے ان خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ سعودی عرب نے ریاستِ کویت اور مملکتِ بحرین کے ساتھ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

کویت کی مذمت

کویت نے ملک پر ایران کے بار بار ہونے والے مجرمانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان حملوں میں سے آخری حملہ بدھ کی صبح ہوا جو اس کی خودمختاری کی واشگاف خلاف ورزی، اس کی سلامتی، استحکام اور شہریوں و مقیم افراد کے تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

کویت نے کہا کہ ایران کے حالیہ حملے بین الاقوامی قانون کے قواعد، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2817 کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ کویت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کا سلسلہ جاری رہنا، ایسے وقت میں جب علاقائی اور بین الاقوامی کوششیں امن قائم کرنے کے لیے جاری ہیں، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو منظم طریقے سے سبوتاژ کرنا ہے اور اس راستے کی حمایت کرنے والے بین الاقوامی عزم کو پسِ پشت ڈالنا ہے۔

وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ کویت کی سلامتی، خودمختاری اور اس کے شہریوں و مقیم افراد کا تحفظ ایک ایسی ریڈ لائن ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کویت نے اپنی خودمختاری کے تحفظ اور اپنی سلامتی و استحکام کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے اپنے جائز حق کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

امارات کا انکار

متحدہ عرب امارات نے برادر ملک بحرین اور برادر ملک کویت کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے والے دوبارہ ہونے والے ایرانی جارحانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

اماراتی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ جارحانہ حملے بحرین اور کویت کی خودمختاری کی واشگاف خلاف ورزی اور ان کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے بحرین اور کویت کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور ان کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے والی ہر چیز کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

قطر کی یک جہتی

اسی تناظر میں قطر نے بحرین اور کویت پر ایران کے بار بار ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کا اظہار کیا اور انہیں دونوں ملکوں کی خودمختاری پر کھلم کھلا حملہ اور بین الاقوامی قانون کے قواعد کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں خطے کو بلا جواز حملوں کے نتائج سے بچانے، بات چیت اور سفارت کاری کے راستے کو جاری رکھنے، کشیدگی کو کم کرنے اور مفاہمت کی یادداشت کے فریم ورک کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

قطری وزارت خارجہ نے بحرین اور کویت کے ساتھ قطر کی مکمل یکجہتی اور ان کی خودمختاری اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

بڑھتی کشیدگی سلامتی کے لیے خطرہ: عمان

سلطنت عمان نے مملکتِ بحرین اور ریاستِ کویت کے علاقوں کو نشانہ بنانے والے فوجی حملوں اور آبنائے ہرمز میں سعودی اور قطری تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے واقعات کی مذمت کی۔ عمان نے برادر ممالک کے ساتھ ان کی سلامتی، استحکام، علاقائی سالمیت، خودمختاری اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔ عمانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اس کی سلامتی، جہاز رانی کے تحفظ، بین الاقوامی تجارت کی روانی اور توانائی کی سپلائی کے لیے ایک خطرہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں