اسرائیل کا دعویٰ: غزہ ہسپتال کے سربراہ حسام ابو صفیہ کی 'حراست قانونی' ہے
اسرائیل کی طرف سے من مانی حراست پر اقوامِ متحدہ کا اظہارِ تشویش، رہائی کا مطالبہ
اسرائیل نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ غزہ کے ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ کی حراست "قانونی" ہے اور ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ ان کی جان خطرے میں ہے۔ وہ دسمبر 2024 سے زیرِ حراست ہیں۔
جنیوا میں اسرائیل کے سفارتی مشن نے حسام ابو صفیہ پر حماس میں کرنل ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں "اسرائیل نے ٹھوس انٹیلی جنس کی بنیاد پر قانوناً حراست میں لیا ہے۔"
نیز کہا، "حراست کے کسی بھی مرحلے پر ان کی جان خطرے میں ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔"
اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے متعدد ماہرین نے اس ہفتے اس کیس کے بارے میں خطرے سے خبردار کیا جس کے بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔
ماہرِ امراضِ اطفال اور غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر نے 2024 میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا جب انہوں نے اسرائیل کے ایک بڑے حملے کے دوران بیت لاہیا میں زیرِ محاصرہ اپنے ہسپتال کے سنگین حالات سے متعلق سوشل میڈیا پر پوسٹس کیں۔
اسی سال 27 دسمبر کو اسرائیلی افواج نے ہسپتال کو حماس کا "دہشت گردی کا مرکز" قرار دیتے ہوئے اس پر حملہ کر دیا اور ابو صفیہ سمیت درجنوں طبی عملے کو گرفتار کر لیا۔ یہ اس وقت شمالی غزہ میں واحد فعال ہسپتال تھا۔
اقوامِ متحدہ کے چار آزاد ماہرین نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ "ڈاکٹر ابو صفیہ کی بغیر کسی الزام یا مقدمے کے جاری من مانی حراست اسرائیل کی طرف سے فلسطین کے صحت کارکنان کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی عکاسی کرتی ہے۔"
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حقوق کی صورتِ حال پر اقوامِ متحدہ کے آزاد کمیشن برائے انکوائری نے بدھ کے روز ایک الگ بیان جاری کیا جس میں ان "معتبر اطلاعات پر شدید تشویش ظاہر کی گئی کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو حراست کے دوران مسلسل اور شدید بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا"۔
کمیشن نے ان کی "فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی" کا مطالبہ کیا اور اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ انہیں فوراً آزاد طبی امداد فراہم کریں۔
اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگانے والے کمیشن نے برقرار رکھا کہ ابو صفیہ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی "خلاف ورزیوں کے وسیع عمل" کا مظہر تھی۔
اسرائیلی مشن کے بیان میں ابو صفیہ کو من مانی حراست میں لینے کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ "حماس کے ایک دہشت گردی مرکز کے طور پر" کمال عدوان ہسپتال کا انتظام چلاتے تھے۔
نیز کہا، ڈاکٹر نے "اُن انسانی وسائل کا رخ دہشت گردی کے مقاصد کی طرف موڑنے کے لیے ہسپتال میں اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھایا جن کا مقصد شہری ضروریات کو پورا کرنا تھا"۔
"ان کی قانونی نظر بندی باقاعدہ انتظامی نظرِ ثانی اور عدالتی نگرانی سے مشروط ہے،" اسرائیلی مشن بشمول سپریم کورٹ نے گذشتہ ماہ کہا۔
اسرائیلی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "ان کی حالت کے بارے میں اٹھائے گئے دعووں کی حمایت میں کوئی اشارے نہیں ملے۔"
اسرائیل نے کہا کہ 24 جون 2026 کو نتسان حراستی مرکز پہنچنے پر اور اس کے بعد ابو صفیہ کا کئی بار طبی عملے نے معائنہ کیا تھا۔
وہ "مسلسل طبی نگرانی میں رہتے ہیں اور ان کا علاج طبی عملے کے پیشہ ورانہ طریقوں کے مطابق کیا جاتا ہے۔"