امریکی ٹی وی ’سی این این‘ نے دو اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع پر قابو کھونے سے خائف ہے اور اسی لیے وہ ایران پر حملوں کی نئی لہر میں اسرائیل کو شامل کرنے کی خواہشمند نہیں ہے۔
چینل کے ایک ذریعے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو امریکی حملوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن واشنگٹن فی الحال اسرائیل کی ان جنگی کارروائیوں میں شرکت کی مخالفت کر رہا ہے۔
’سی این این‘ کو ایک اور ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل کا خیال ہے کہ صدر ترامب مکمل جنگ کی طرف واپس نہیں جانا چاہتے اور زیادہ سے زیادہ جس چیز پر وہ اتفاق کر سکتے ہیں وہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کی بحالی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال ان معلومات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بیان دیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیلی فوج آزادانہ طور پر ایران کے خلاف فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
اسی تناظر میں اسرائیلی پبلک براڈکاسٹنگ کارپوریشن (کان) نے جمعہ کے روز رپورٹ دی کہ کچھ اسرائیلی حکام ایران پر امریکی حملوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں جس کا مطلب مکمل جنگ کی واپسی ہوگا۔
کان کے مطابق وہ اسرائیلی حکام جن کے نام رپورٹ میں ظاہر نہیں کیے گئے ہیں وہ دو دن کی فوجی کشیدگی کے بعد حملوں میں شامل ہونے کے لیے صدر ترامب سے گرین سگنل کے منتظر ہیں۔
یہ رپورٹ جس کا ذریعہ ظاہر نہیں کیا گیا ہے یہ بتاتی ہے کہ اسرائیلی حکام کو توقع ہے کہ اگلے چند دنوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اسی طرح امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا ملک مستقبل کے حملوں میں شامل ہونے اور مکمل طور پر جنگ کی بحالی میں دلچسپی رکھتا ہے۔
بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت اور جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فضائی حملوں کے دو راؤنڈز کا حکم دیا تھا۔ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور مکمل جنگ کی واپسی سے بچنے کے خواہشمند ہیں۔