امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ سے بات چیت جاری رکھنے کی درخواست کی تھی، لیکن واشنگٹن نے تہران کو واضح طور پر مطلع کر دیا ہے کہ "جنگ بندی ختم ہو چکی ہے"۔
ٹرمپ نے آج جمعے کے روز اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا "ایران نے ہم سے مطالبہ کیا کہ ہم بات چیت جاری رکھیں۔ ہم نے ایسا کرنے پر رضامندی ظاہر کی، لیکن امریکہ نے انہیں غیر مبہم الفاظ میں بتا دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے!"
ایرانی وزارت صحت کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حالیہ امریکی بم باری کے نتیجے میں دو دنوں کے دوران 17 افراد ہلاک اور 93 زخمی ہوئے۔
امریکی عسکری عہدیداروں نے کہا کہ حالیہ حملوں میں تقریباً 90 ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائلوں کے ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ڈرون شامل تھے۔
تاہم ایران نے امریکہ پر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا، جن میں ایک پل کے علاوہ تہران اور مشہد (شمال مشرق) کو ملانے والی ریلوے لائن شامل ہیں۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق حملوں کی زد میں صوبہ بوشہر (جنوب) میں جوہری بجلی گھر کے "اطراف" بھی آئے، جسے جنگ کے دوران پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت "ختم ہو چکی ہے"، جس کے بعد انہوں نے معاہدہ کرنے کی کوشش میں واشنگٹن کے ساتھ ایرانی رابطے کا انکشاف کیا۔ یہ عسکری تصادم کے باوجود مواصلاتی چینلوں کے فعال رہنے کا اشارہ ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد جمعہ کو ایک قطری وفد ایران پہنچا۔ کشیدگی میں دوحہ کی جانب سے تہران پر اپنے ایک ٹینکر کو نشانہ بنانے کا الزام اور امریکہ اور اسلامی جمہوریہ کے درمیان حملوں کا تبادلہ شامل ہے۔
ایجنسی نے واضح کیا کہ یہ دورہ "منگل اور جمعرات کو پیش آنے والے واقعات کے بعد قطر کے بطور ثالث کردار کو مضبوط بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے"۔