اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایرانی جوہری پروگرام کے اثرات کو زیر بحث لانے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو... روس اور چین نے ویٹو کا حق استعمال کرتے ہوئے روک دیا۔
سلامتی کونسل میں امریکی خاتون مندوب نے آج ایرانی جوہری معاملے پر بحث میں رکاوٹیں کھڑی کرنے پر روس اور چین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا "ہم روس اور چین کی جانب سے ایرانی جوہری معاملے پر بحث روکنے کو مسترد کرتے ہیں، کیونکہ رکن ممالک کو اس معاملے پر بحث کا حق حاصل ہے۔
جواب میں اقوام متحدہ نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر تعمیری حل تک پہنچنے کے لیے کام کریں۔
مزید برآں سلامتی کونسل میں فرانسیسی مندوب نے کہا کہ ایران کو بغیر کسی شرط کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو یقینی بنانا چاہیے اور خطے میں بد امنی پھیلانے اور مسلح گروہوں کی حمایت کرنے کی کوششیں بند کرنی چاہئیں۔
سلامتی کونسل میں بحرین کے مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی کوششوں کا عکس ایران کے رویے پر نظر آنا چاہیے۔ مندوب نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ تہران نے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے فوراً بعد اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی سفارتی پیش رفت تب تک مؤثر نہیں ہو گی جب تک ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کئی ممالک نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کونسل کے کسی اجلاس میں ایرانی جوہری معاملے پر بحث کرے۔