شرقِ اوسط کی نئی لڑائی کے درمیان روم میں لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

واشنگٹن اور تہران کے درمیان علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں لبنان اور اسرائیل منگل کو روم میں امریکی سرپرستی میں نئے مذاکرات کر رہے ہیں۔

کئی عشروں سے باضابطہ طور پر جنگ میں مصروف دونوں ممالک واشنگٹن میں مذاکرات کے پانچ ادوار کے بعد 26 جون کو ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچے جس کا مقصد اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم کرنا اور امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔

لیکن حزب اللہ نے یہ معاہدہ مسترد کر دیا ہے جس میں گروپ سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس کا نفاذ جنوبی لبنان کے دو "پائلٹ زونز" سے اسرائیلی انخلاء کے ساتھ شروع ہونا ہے۔

لبنانی ایوانِ صدر نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس کے روم جانے والے وفد کو ہدایت کی گئی کہ وہ "مزید گفتگو سے پہلے اسرائیلی افواج کے ان دو پائلٹ زونز سے فوری انخلاء شروع کرنے کا مطالبہ کرے۔"

مذاکرات کے مواد سے واقف ایک لبنانی سفارتی ذریعے کے مطابق "لبنانی فوج بتدریج ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار ہے جہاں سے اسرائیلی فوج انخلاء کرے گی۔"

تل ابیب میں انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز (آئی این ایس ایس) کی تجزیہ کار اورنا میزراہی نے اے ایف پی کے یروشلم بیورو کو بتایا، "اسرائیل بتدریج دستبرداری کے لیے تیار ہے" لیکن اس شرط پر کہ "جن علاقوں سے وہ انخلاء کر رہا ہے، وہاں حزب اللہ کی کوئی موجودگی نہیں ہو گی۔"

انہوں نے مزید کہا، اسرائیل یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ "لبنانی فوج کے پاس یہ صلاحیت ہو گی کہ وہ اسے ایک غیر جانبدار علاقے اور ایک ایسی جگہ کے طور پر رکھے جہاں حزب اللہ دوبارہ داخل نہ ہو سکے۔"

امریکی فوجی وفد نے ہفتے کے روز بیروت میں لبنانی فوج سے ان میں سے ایک "پائلٹ زون" سے اسرائیلی انخلاء کے عمل پر بات چیت شروع کی۔

محدود امکانات

فریم ورک معاہدہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک نازک جنگ بندی کے عمل میں آنے کے بعد طے پایا۔

لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج بہرحال جنوب میں محدود حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ اپنے زیرِ قبضہ دیہات میں مسماری کر رہی ہے۔

لبنانی حکام کے مطابق مارچ کے اوائل میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اسرائیل کے حملوں اور زمینی حملے میں 4,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

سائنسز پو پیرس کے ایک لیکچرر کریم بٹار نے اے ایف پی کو بتایا، "روم میں پیش رفت کے امکانات کافی محدود ہیں۔"

"اس کے بجائے ہم جو کچھ دیکھ سکتے ہیں وہ یہ ظاہر کرنے کا ایک موقع ہے کہ یہ عمل بدستور اپنی جگہ پر ہے۔۔ اور جو مخالفت اور رکاوٹیں ابھرنا شروع ہو رہی ہیں، ان کے باوجود مذاکرات جاری ہیں،" انہوں نے بات جاری رکھی۔

تہران نے امریکہ سے مذاکرات کے وقت لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن خطے میں حالیہ دنوں میں از سرِ نو کشیدگی واقع ہوئی ہے۔

آئی این ایس ایس کی میزراہی نے کہا، ایران علاقائی جنگ اور لبنان پر مذاکرات کے درمیان ایک ربط قائم کرنا چاہتا ہے "لیکن ہم اسے منقطع کرنا چاہتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، آج تہران کی ترجیحات آبنائے ہرمز اور ایٹمی فائل ہیں۔

"ایرانی لبنان کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور وہ ہمیشہ اسے بہانے کے طور پر استعمال کریں گے۔"

بٹار نے اپنی طرف سے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے نتیجے میں لبنان میں بڑی لڑائی دوبارہ شروع ہو جانے کا خطرہ "یقیناً نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔"

"لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایران آج حزب اللہ سے اسرائیل کے خلاف نئے حملے شروع کروانے سے پہلے دو بار سوچے گا۔"

انہوں نے کہا، تہران "حزب اللہ کو روک تھام کے ایک طویل مدتی ذریعے کے طور پر برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ایک نیا محاذ کھولنے کے لیے اسے فوراً استعمال نہیں کرنا چاہتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں