ایران کے متعدد علاقوں میں نئے حملوں کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک : ایرانی میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی نیوز ایجنسی "نور" کے مطابق صوبہ ہرمزگان کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ جنوبی ایران کے شہروں بندر عباس اور حاجی آباد پر حملوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق بندر عباس کے مغربی حصے اور حاجی آباد کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں سید جوزار قصبے میں وزارت تحفظِ ماحول کی ایک انتظامی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایجنسی نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

مقامی ایرانی حکام کے مطابق منگل کی سہ پہر امریکی فوج نے جنوب مغربی ایران کے صوبہ خوزستان میں عراق کی سرحد کے قریب ایک تیل کے علاقے پر بھی بم باری کی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی (ارنا) نے صوبہ خوزستان کے ڈپٹی گورنر ولی اللہ حیاتی کے حوالے سے بتایا کہ بم باری کی زد میں آبادان شہر آیا جہاں مشرق وسطیٰ کی قدیم ترین آئل ریفائنری واقع ہے، نیز ساحلی شہر ماہ شہر بھی نشانہ بنا جو پیٹرو کیمیکل صنعتوں کا مرکز ہے۔

مقامی حکام نے اعلان کیا کہ امریکی فوج نے ساحلی شہر بوشہر پر بھی بم باری کی جہاں ایران کا واحد جوہری توانائی پیدا کرنے والا پلانٹ واقع ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ارنا) نے بوشہر کے ڈپٹی گورنر احسان جہانیان کے حوالے سے بتایا کہ "دوپہر کے وقت (8:30 گرینچ ٹائم پر) دشمن کے فائر کیے گئے گولوں سے بوشہر شہر کے چار مقامات متاثر ہوئے"۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

امریکی فوج نے پیر کی شام اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کر لی ہے۔ امریکی سینٹ کام نے منگل کی صبح "ایکس" پر ایک بیان میں کہا کہ "5 گھنٹے طویل مشن کے دوران، امریکی افواج نے ایران بھر میں فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جن میں بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کونارک، ابوموسیٰ اور بندر عباس شامل ہیں۔ اس کا مقصد تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی تہران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا"۔

سینٹ کام نے مزید کہا کہ اس کی افواج نے "ایرانی ساحلوں پر فضائی دفاعی نظام، میزائل لانچنگ سائٹس، ڈرونز اور بحری صلاحیتوں کے خلاف" درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے۔ ساتھ ہی اس نے واضح کیا کہ اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرق وسطیٰ میں تعینات ہیں۔

امریکی فوج نے پیر کی شام اعلان کیا تھا کہ اس نے مسلسل تیسری رات ایران کے خلاف حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جس سے جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ بات فرانس پریس نیوز ایجنسی نے بتائی۔

سینٹ کام نے "ایکس" پر ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ "یہ حملے ایرانی افواج کو بھاری نقصان پہنچاتے رہیں گے اور آبنائے ہرمز میں بے گناہ شہریوں اور تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کریں گے"۔ بیان کے مطابق مذکورہ حملے 16:45 (20:45 گرینچ ٹائم) پر شروع ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں