لبنان سے اسرائیلی انخلا پر امریکہ اور لبنان میں اتفاق

روبیو اور جوزف عون کی ملاقات میں فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک لبنانی ذریعے نے العربیہ اور الحدث چینل کو بتایا ہے کہ لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلا پر اتفاق پایا گیا ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز کرنا ضروری ہے۔

صدر عون نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو پہلے ماڈل علاقے سے انخلا شروع کرنا چاہیے اور انہوں نے لبنانی فوج اور عسکری اداروں کے لیے امریکی حمایت بڑھانے پر بھی زور دیا۔ یہ بیانات صدر عون کی واشنگٹن میں مارکو روبیو سے ملاقات کے دوران سامنے آئے۔ دونوں رہنماؤں نے 26 جون کو امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تنازع ختم کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ لبنان کو کسی اور مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے ریاستی خودمختاری کی بحالی، القسام بریگیڈز سے مشابہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کو تلف کرنے، اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے اور امن کی جانب پیش قدمی کے لیے صدر عون کی قیادت میں لبنانی حکومت کے اقدامات کو شجاعانہ قرار دیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے سہ فریقی فریم ورک کے کامیاب نفاذ کے لیے واشنگٹن کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ امریکہ امن، معاشی بحالی اور لبنانی عوام کے لیے بہتر مستقبل کے حصول میں لبنانی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔

صدر عون کا یہ دورہ، جو سنہ 2009ء کے بعد کسی لبنانی صدر کا واشنگٹن کا پہلا دورہ ہے، منگل کو امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متوقع ملاقات سے قبل ہو رہا ہے۔ اس ملاقات میں صدر عون حزب اللہ کے ہتھیار تلف کرنے اور لبنانی سرزمین سے اسرائیل کے انخلا کو یقینی بنانے کا منصوبہ پیش کریں گے۔

منگل کو ہونے والی یہ ملاقات لبنان کے لیے ایک نازک موڑ پر ہے کیونکہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے بڑے حصے پر قابض ہیں اور اسرائیلی حملوں کے بعد لاکھوں لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔ جبکہ حزب اللہ حکومت کی اسرائیل کے ساتھ براہ راست بات چیت اور ریاست کی جانب سے گروپ کے ہتھیار تلف کرنے کی کوششوں کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔

اسرائیل جنوبی لبنان کے تقریباً 10 کلومیٹر گہرے پٹی والے علاقے پر قابض ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد اپنے سرحدی شہروں کو ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ سے محفوظ بنانا ہے۔

جوزف عون گذشتہ برس صدر منتخب ہونے سے قبل امریکی حمایت یافتہ لبنانی فوج کے کمانڈر تھے اور وہ گذشتہ 20 برسوں میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے پہلے لبنانی صدر ہیں جہاں وہ پہلی بار ٹرمپ سے بالمشافہ ملاقات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size