یمن میں امن اولین ترجیح، اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کریں گے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی وزارتِ خارجہ نے حوثی ملیشیا کے نام نہاد فوجی ترجمان کی جانب سے سعودی عرب پر یمنی عوام کا محاصرہ کرنے اور مملکت کے خلاف بحری آمدورفت پر پابندی لگانے کے الزامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کا مؤقف ہمیشہ یمن میں امن کے قیام اور یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے پر مبنی رہا ہے۔

مملکت نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران اقوام متحدہ کی زیرِ قیادت امن کوششوں کی مسلسل حمایت کی، جن میں وہ روڈ میپ بھی شامل ہے جسے یمنی حکومت نے قبول کیا، تاہم حوثیوں نے اسے مسترد کر دیا اور خطے میں اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تنازع میں شامل ہو گئے، جس سے ان کے زیرِ قبضہ علاقوں میں یمنی شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔

بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ مل کر یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ترقیاتی منصوبے جاری رکھے، یمنی حکومت کے بجٹ میں معاونت فراہم کی اور بجلی گھروں کو چلانے کے لیے تیل کی مصنوعات مہیا کیں۔

مملکت کے نزدیک یمن کی معیشت کا استحکام اور ترقیاتی عمل کا فروغ دونوں ممالک کے تعلقات کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ سعودی پروگرام برائے ترقی و تعمیرِ نو کے ذریعے یمن میں بنیادی سہولیات کی بہتری، ترقیاتی منصوبوں، بجٹ سپورٹ اور بجلی کے لیے ایندھن کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے تاکہ مشکل معاشی حالات میں یمنی عوام کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

بیان کے مطابق رواں سال کے پہلے نصف کے دوران شمالی یمن کی بندرگاہوں الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ پر 300 سے زائد تجارتی جہاز پہنچے، جو خوراک، تجارتی سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد لے کر آئے۔

اس سے حوثیوں کے یمن کے محاصرے کے دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں، جبکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے تحت ہتھیاروں اور گولہ بارود کی اسمگلنگ روکنے کے اقدامات جاری ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے یاد دلایا کہ حوثی ملیشیا نے یمنی عوام اور ملک کے بنیادی ڈھانچے کو متعدد بار نشانہ بنایا، جن میں 30 دسمبر 2020 کو عدن ایئرپورٹ پر حملہ بھی شامل ہے، جس میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی کے دوران بھی حوثیوں نے 21 اکتوبر 2022 کو جنوبی یمن کی تیل برآمد کرنے والی بندرگاہوں پر حملے کیے، جس سے یمنی حکومت کی تیل فروخت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔

تیل کی آمدنی حکومت کی مجموعی آمدن کا تقریباً 60 فیصد تھی، جس کے متاثر ہونے سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی متاثر ہوئی۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق حوثیوں نے یمن ایئر ویز کے چار طیارے بھی ضبط کر لیے، جنہیں جدہ سے یمنی حجاج کو واپس لانے کے بعد صنعاء ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔

بعد ازاں انہوں نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا، جس سے یمنی عوام کی مشکلات، سفری مسائل اور معاشی بحران میں مزید اضافہ ہوا، خصوصاً ان علاقوں میں جو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

اس کے علاوہ حوثیوں نے صنعاء ایئرپورٹ سے پروازوں کی بحالی کے لیے پیش کی جانے والی تمام تجاویز، بشمول اردن کی حالیہ تجویز، مسترد کر دیں۔

بیان میں کہا گیا کہ 2024 میں حوثیوں نے یمن ایئر ویز کے چار طیارے اغوا کر کے انہیں صنعاء ایئرپورٹ پر روک لیا تھا۔

اس کے باوجود یمنی حکومت نے کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کی آمدورفت برقرار رکھنے کے لیے انہی طیاروں کو صنعاء اور اردن کے درمیان پروازوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی تاکہ سول فضائی خدمات جاری رہ سکیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے الزام عائد کیا کہ حوثی اب اپنی معاشی ناکامیوں، عوامی ناراضی اور اپنے جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹے الزامات سعودی عرب پر عائد کر رہے ہیں۔

بیان کے اختتام پر وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب یمن میں امن کے قیام اور یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ مملکت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کی آزادی سے متعلق قرارداد 2722 پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب بین الاقوامی قانون اور 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے مطابق اپنے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، جبکہ یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت بھی جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں