ہرمز میں سکیورٹی خدشات برقرار، بحری جہازوں کی آمدورفت میں مزید کمی
منگل کو اجناس کے صرف تین جہازوں نے آبنائے عبور کی: کیپلر
جہازرانی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کو آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت میں مزید کمی واقع ہوئی کیونکہ امریکہ اور ایران کے جاری حملوں کے باعث سکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔
کیپلر کے مطابق اجناس کے کُل تین جہازوں نے منگل کو آبنائے عبور کی جبکہ گذشتہ روز یہ تعداد چار تھی۔
عام مال بردار جہاز کیسر سامان سے لدا آبنائے سے نکلا جبکہ خشک مال بردار H7 Smb8 بیلاسٹ میں آبنائے میں داخل ہوا، کیپلر کے ڈیٹا سے ظاہر ہوا۔
ایک اور جہاز ہسن اوشیئن منگل کو صاف شدہ پام آئل لے کر آبنائے میں داخل ہوا۔
امریکی فوج نے منگل کے اواخر میں ایران پر تازہ ترین حملے کیے جو امریکی حملوں کی مسلسل 11ویں رات تھی۔
یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی تیل کے جہازوں کو آبنائے سے گذرنے سے روکنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ان کی دھمکیوں کے بعد منگل کو بحیرہ احمر میں سعودی خام تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکرز راستے بدل کر آبنائے باب المندب کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہ ایشیا جا رہے تھے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ ایران تنازعہ وسیع ہو رہا ہے اور دنیا میں توانائی کی ترسیل کے دو اہم ترین راستوں سے جہازرانی میں ممکنہ خلل پیدا کر رہا ہے۔
گروپ کی جانب سے کمپنیوں کو ارسال کردہ ایک ای میل کے مطابق حوثی ملیشیا نے جہازراں کمپنیوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کی بندرگاہوں پر سامان لادنے یا اتارنے سے گریز کریں ورنہ انہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے