ہم حوثی خطرات کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

برطانیہ نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو دی جانے والی حالیہ دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ:یہ اشتعال انگیز اقدامات علاقائی عدم استحکام میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، بحیرہ احمر میں آزاد جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور یمن میں امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:ہم ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں، اور حوثیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی کشیدگی بڑھانے والی کارروائیاں فوری طور پر روک دیں۔

ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل اور ایندھن کی فراہمی

سعودی وزارت خارجہ نے پیر کے روز حوثی ملیشیا کے نام نہاد فوجی ترجمان کی جانب سے سعودی عرب پر یمنی عوام کا محاصرہ کرنے اور سمندری جہاز رانی پر پابندی عائد کرنے کے الزامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ:سعودی عرب اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس نے گزشتہ برسوں کے دوران یمن کی قانونی حکومت کے ساتھ مل کر برادر یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے کام کیا ہے، جس میں ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل، یمنی حکومت کے بجٹ کی معاونت اور بجلی گھروں کو چلانے کے لیے ایندھن کی فراہمی شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ:شمالی یمن کی بندرگاہوں (الحدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ) نے 2026 کے پہلے نصف میں 300 سے زائد بحری جہازوں کا استقبال کیا، جن میں مختلف غذائی اشیا، سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد شامل تھا۔

وزارت نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے تحت کام جاری ہے، جس کا مقصد ہتھیاروں اور گولہ بارود کی آمد کو روکنا ہے، جنہیں حوثی ملیشیا مختلف طریقوں سے یمن میں داخل کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ یمنی عوام کے وسائل پر اپنے قبضے کو طول دے سکے۔

حوثیوں کے وسیع حملے

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں حوثی ملیشیا کی جانب سے ماضی میں کیے گئے وسیع حملوں کا بھی ذکر کیا، جن میں یمنی عوام اور یمن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق ان حملوں میں 30 دسمبر 2020 کو عدن ایئرپورٹ پر حملہ بھی شامل ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

اسی طرح جنگ بندی کے دوران 21 اکتوبر 2022 کو جنوبی یمن میں تیل برآمد کرنے والی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد حکومت کی تیل فروخت کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کے لیے مزید حملے کیے گئے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ یمن کی حکومت کی آمدنی کا تقریباً 60 فیصد حصہ تیل سے حاصل ہوتا ہے اور ان حملوں کا براہ راست اثر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی پر پڑا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد حوثی ملیشیا نے یمن ایئر لائن کی 4 طیارے ضبط کر لیے، جنہیں صنعاء ایئرپورٹ پر اس وقت روک لیا گیا جب وہ جدہ سے یمنی حجاج کو واپس لے کر آئے تھے۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق حوثیوں نے بعد ازاں یمن کو خطے کے تنازعات میں دھکیل دیا اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس سے یمنی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا، سفر کی سہولت متاثر ہوئی اور خاص طور پر ان علاقوں میں معاشی مسائل مزید سنگین ہوئے جہاں حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حوثیوں نے صنعاء ایئرپورٹ سے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تمام اقدامات کو مسترد کیا، جن میں حالیہ اردنی اقدام بھی شامل تھا۔

وزارت نے مزید الزام لگایا کہ حوثی ملیشیا یمنی شہریوں کے خلاف مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے اور اب وہ اپنی معاشی مشکلات اور عوامی مخالفت کا سامنا کرنے کے باعث اپنی کارروائیوں اور جرائم سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹے الزامات گھڑ کر سعودی عرب پر عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

امن کا قیام

سعودی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ مملکت کا مؤقف یمن میں امن کے قیام اور یمنی عوام کی مشکلات کے خاتمے پر مبنی ہے۔

سعودی عرب نے گزشتہ برسوں کے دوران یمن میں امن کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کی، جن میں وہ روڈ میپ بھی شامل ہے جسے یمنی حکومت نے قبول کیا تھا، جبکہ حوثی ملیشیا نے اس کی منظوری کا اعلان کرنے سے گریز کیا۔

وزارت کے مطابق حوثیوں نے اپنی مزموم خواہشات اور مقاصد کے لیے خطے کے تنازعات میں خود کو شامل کیا، جس سے ان علاقوں میں موجود یمنی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا جہاں حوثیوں کا کنٹرول ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ:سعودی عرب عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور یمن سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں، خصوصاً قرارداد 2216 اور بحیرہ احمر میں حقوق و آزاد جہاز رانی سے متعلق قرارداد 2722 پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اپنے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، جو بین الاقوامی قانون اور 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے مطابق ہوں گے۔

بیان کے اختتام پر سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب یمنی عوام اور ان کی قانونی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں