جولان شام کی اراضی ہے... گوتریس کا دمشق سے خطاب
انہوں نے کہا کہ "اقوامِ متحدہ تمام شعبوں میں شام کے ساتھ تعاون کے لیے پُر امید ہے".
اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے باور کرایا ہے کہ جولان 'شام کی اراضی' ہے اور اقوامِ متحدہ شامی علاقوں کی سلامتی، آزادی اور خود مختاری کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے تمام خلاف ورزیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا۔
آج ہفتے کے روز دمشق کے قصرِ تشرين میں شامی وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران گوتریس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ تمام شعبوں میں شام کے ساتھ اور اس کے مستقبل و خوش حالی کی حمایت کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کی منتظر ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ شامی عوام نے کئی سال مشکلات برداشت کی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ لچک، عزم، جدت اور وابستگی کا احساس نہیں کھوئے۔ شام اب ایک ساتھ بحالی اور سرمایہ کاری کے مرحلے میں ہے، جہاں سب کے لیے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور یہ فیصلہ ایک بہتر مستقبل کے لیے قیادت، بصیرت اور اعتماد کا تقاضا کرتا ہے تاکہ ہر شامی شہری اپنے ملک کے مستقبل میں اپنا کردار دیکھ سکے۔
گوتریس نے تباہ کن جنگ سے نکلنے والے شام کی مدد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شدید تنازع سے نکل کر کوئی ملک اکیلے خود کو نہیں بنا سکتا، لہٰذا ہمیں اس کے عزم و ارادے میں مدد کرنی چاہیے۔ گوتریس نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے 2011 میں شام کے عوام پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کی شروعات سے لے کر حکومت کے خاتمے تک شام نہ جانے کا فیصلہ قصداً کیا تھا۔
دوسری جانب الشیبانی نے بتایا کہ ملاقات میں بحالی اور تعمیرِ نو کے نئے مرحلے میں اقوامِ متحدہ کے ساتھ شراکت داری اور تعاون کے طریقوں پر بات چیت کی گئی ہے۔
الشیبانی نے اشارہ کیا کہ اس وقت پہلی ترجیح تعمیرِ نو ہے، جس کے لیے تمام پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے اور شام کے عوام کے پاس اپنے ملک کی تعمیر میں حصہ لینے کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک آج امن کا ایک اسٹریٹجک ماڈل پیش کر رہا ہے، جہاں تمام اسلحہ ریاست کے قبضے میں دے کر سرحدوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دی گئی ہے اور شام نے اقوامِ متحدہ کے ساتھ غیر معمولی تعاون کی بنیاد رکھی ہے۔
زار سوق الحميدية والمسجد الأموي.. جولة للأمين العام للأمم المتحدة غوتيريش في دمشق القديمة ويرافقه المندوب السوري الدائم لدى الأمم المتحدة إبراهيم العلبي pic.twitter.com/f4WktBVBFE
— العربية (@AlArabiya) July 25, 2026
وزیرِ خارجہ نے زور دیا کہ شامی علاقوں پر اسرائیلی خلاف ورزیاں علاقائی سکیورٹی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ 17 سال میں سکریٹری جنرل کا شام کا یہ پہلا دورہ ہے، جو اس بات کا صریح اعلان ہے کہ شام اقوامِ متحدہ کے ایک فعال شراکت دار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
الشیبانی نے بتایا کہ 35 لاکھ شامی باشندے اپنے وطن واپس آ چکے ہیں، جو دنیا کی بڑی رضاکارانہ واپسیوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین شام میں اپنا کردار ادا کریں۔
اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل ہفتے کی صبح دمشق پہنچے اور قدیم دمشق کا دورہ کیا، جس کے بعد صدر احمد الشرع نے ان کا استقبال کیا۔ ملاقات کے دوران انسانی و ترقیاتی شعبوں میں تعاون کے فروغ، ابتدائی بحالی کی حمایت اور شام کی خود مختاری کے احترام پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر گوتریس نے وزراء، مرکزی بینک کے گورنر اور اقوامِ متحدہ میں شام کے مستقل مندوب کے ساتھ تفصیلی اجلاس میں بھی شرکت کی۔
شامی ذرائع کے مطابق سکریٹری جنرل کل صوبہ قنیطرہ کا دورہ کریں گے تاکہ جولان میں متعین اقوامِ متحدہ کی فورسز (UNDOF) اور دمشق میں سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کر سکیں۔
-
اقوامِ متحدہ کے سربراہ گوتیریس کی شام آمد، صدر الشرع سے ملاقات
سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس ہفتے کے روز ...
مشرق وسطی -
شام: دیر الزور-دمشق روڈ پر دو بسوں کے تصادم میں کم از کم 35 افراد ہلاک
وزارتِ صحت کے ایک اہلکار نے ہفتے کے روز سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کو بتایا کہ ...
مشرق وسطی -
گوتریس کا شام کی خود مختاری کے احترام پر زور اور الشیبانی کا فوری اسرائیلی انخلا کا مطالبہ
گوتریس کے مطابق "جولان کے اطراف جو کچھ ہو رہا ہے وہ بالکل ناقابلِ قبول ہے".
بين الاقوامى