.

امریکا میں پاکستان میں مقیم تین طالبان معاونین کے اثاثے منجمد

امریکیوں پر طالبان مددگاروں سے کاروباری روابط پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا کے محکمہ خزانہ نے پاکستان میں مقیم طالبان اور دوسرے جنگجو گروپوں کے تین مددگاروں کے اثاثے منجمد کرلیے ہیں اور ان کے ساتھ امریکی شہریوں اور اداروں کے کاروبار کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے مولاوی آدم خان اچکزئی ،امیر علی چودھری اور قاری ایوب بشیر کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کر لیے ہیں اور امریکی افراد پر ان کے ساتھ کسی قسم کا کاروبار کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔

بیان میں مولاوی آدم خان اور امیر علی چودھری پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ افغان طالبان اور (کالعدم) تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے بموں کی تیاری میں ملوث رہے ہیں۔

بیان کے مطابق قاری ایوب بشیر تحریک اسلامی ازبکستان (آئی ایم یو) کے لیے افغانستان اور پاکستان میں مالی وسائل فراہم کرنے کا کام کرتے رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے انڈرسیکرٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی سراغرسانی ڈیوڈ کوہن کا کہنا ہے کہ ''ہم افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردی کے معاون نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔ہم اچانک پھٹنے والے دھماکا خیز مواد اور بموں (آئی ای ڈی) کی تیاری میں ملوث افراد پر خصوصی توجہ مرکوز کریں گے''۔