.

کراچی اور راول پنڈی میں محرم جلوسوں پر بم حملے، 14 افراد مارے گئے

کوئٹہ میں فوجی گاڑی بم دھماکے میں تباہ، 5 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہرراول پنڈی اور صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود چار بم دھماکے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے ان واقعات کے نتیجے میں انیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

راول پنڈی کے علاقے ڈھوک سیداں میں بدھ کی رات مصریال روڈ پر ایک امام بارگاہ کے قریب اہل تشیع کے ایک جلوس پر خود کش بم حملہ کیا گیا ہے۔اس میں بارہ افراد جاں بحق اور چھتیس زخمی ہوگئے ہیں۔بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے جس کے پیش نظر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

پولیس حکام اور عینی شاہدین کے مطابق شیعہ عزادار ڈھوک سیداں میں واقع قصر ابوطالب میں مجلس میں شرکت کے بعد ایک اور امام بارگاہ ''قصرشبیر'' کی جانب جارہے تھے۔اس دوران دو مشکوک افراد نے ان کے جلوس میں گھسنے کی کوشش کی۔انھیں جب سکیورٹی اہلکاروں نے روکا توان میں سے ایک بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور تک سنی گئی اور جاں بحق اور زخمی افراد کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے۔جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو راول پنڈی کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے اور شہر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں برقی رو معطل ہوگئی جس کی وجہ سے رضاکاروں کو امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔پولیس اور فوج نے دھماکے کے فوری بعد علاقے کا محاصرہ کرلیا۔

اس سے قبل کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں بھی اہل تشیع کو نشانہ بنایا گیا اور امام بارگاہ حیدر کرار کے باہر یکے بعد دیگرے دو بم دھماکے ہوئے ہیں۔ پہلے بم دھماکے میں دو افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام نے واقعہ کو خودکش حملے کا نتیجہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بم ایک موٹر سائیکل کے ساتھ باندھا گیا تھا۔

کراچی مغربی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جاوید اوڈھو نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جائے وقوعہ سے ایک غیر شناختہ لاش ملی ہے اور وہ خودکش بمبار کی ہو سکتی ہے۔ تاہم ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

عاینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی اہلکار اور امدادی کارکنان پہلے بم دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونےوالوں کو اٹھا کر گاڑیوں کے ذریعے اسپتال منتقل کر رہے تھے کہ اس دوران دوسرا دھماکا ہو گیا۔ اس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار، امدادی کارکنان اور خاتون صحافی بھی شامل ہیں۔

ادھر جنوب مغربی شہر کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی بم دھماکے میں تباہ ہو گئی ہے۔ اس واقعہ میں ایک خاتون اور چار اہلکار جاں بحق اور اکیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق دہشت گردی کا یہ واقعہ شہر کے علاقے شہباز ٹاؤن میں پیش آیا ہے اور اس گاڑی میں سوار سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک اسکول بس کے ساتھ جا رہے تھے۔

کوئٹہ شہر کے پولیس سربراہ حامد شکیل نے بتایا ہے کہ ''بم حملے کا ہدف فوج کی گاڑی تھی جو مقامی فوجی افسروں کے بچوں کو مختلف اسکولوں سے چھٹی کے بعد لینے کے بعد گھروں کو واپس لے جا رہی تھی''۔

انھوں نے بتایا کہ بم ایک موٹر سائیکل کے ساتھ نصب کیا گیا تھا اور اس کو فوجی گاڑی نزدیک آنے پر دھماکے سے اڑا دیا گیا جس سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ واقعے میں زخمی اکیس افراد میں سے تین فوجی اور اٹھارہ عام شہری ہیں اور ان میں سے سات کی حالت تشویشناک ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے راول پنڈی، کراچی اور کوئٹہ میں ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ پاکستان کے شہروں میں آئے دن فرقہ وارانہ اور نسلی بنیاد پر تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ کراچی کے علاقے عباس ٹاؤن میں چند روز قبل بھی امام بارگاہ کے نزدیک بم دھماکا ہوا تھا اور اس میں تین افراد جاں بحق اور تئیس زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعہ میں بھی بارود موٹر سائیکل کے ساتھ باندھا گیا تھا۔

دہشت گردی کے یہ واقعات دارالحکومت اسلام آباد میں ترقی پذیر ممالک کے گروپ ڈی ایٹ کے سربراہ اجلاس کے انعقاد سے صرف ایک روز قبل اور یوم عاشور سے تین روز قبل پیش آئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں اس اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

صدرِ آصف علی زرداری، وزیر اعظم راجا پرویز اشرف حزب اختلاف کے رہ نما میاں نوازشریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے الگ الگ بیانات میں راول پنڈی، کراچی اور کوئٹہ میں بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔