.

ملالہ یوسفزئی پر حملہ 'دھچکے' کا باعث بنا: عدنان رشید

مشرف پر قاتلانہ حملے میں ماخوذ طالبان کمانڈر کا خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی طالبان ایک رکن عدنان رشید نے اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی طالبہ ملالہ یوسفزئی کے نام خط میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ انہیں ملالہ پر ہونے والے حملے کا سن کر دھچکا لگا تھا۔

انہوں نے سوچا تھا کہ کاش یہ حملہ نہیں ہوتا۔ وہ ملالہ کو عسکریت پسندوں کے جانب سے حملے سے قبل انہیں تنقید کا نشانہ بنانے پر خبردار کرنا چاہتے تھے تاکہ ان پر حملہ نہ ہوتا۔

امریکی خبر رساں ادارے "اے پی" کو یہ خط منگل کی رات موصول ہوا، اگلے روز ایک اور طالبان کمانڈر نے تصدیق کردی ہے۔
اس خط میں تحریک طالبان پاکستان کے کمانڈرعدنان رشید نے لکھا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کے سر میں گولیاں اس لیے نہیں ماری گئی تھیں کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی تھیں بلکہ انھیں طالبان کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔عدنان رشید کا کہنا ہے کہ یہ خط انہوں نے پاکستانی طالبان کی طرف سے نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں لکھا ہے۔


عدنان رشید کون ہے

واضح رہے کہ عدنان رشید کو عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف پر حملے پر مجرم ٹہرایا تھا جبکہ گزشتہ سال اپریل میں بنوں جیل واقعے کے دوران وہ فرار ہوگئے تھے۔

راکٹوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے لیس 150 کے قریب عسکریت پسندوں نے بنوں جیل پر 15 اپریل 2012ء کو حملہ کردیا تھا جسکے دوران تقریباً 400 قیدی فرار ہوگئے تھے۔

پاکستان ایئر فورس کے سابق ٹیکنیشن رشید کا تعلق صوابی ضلع کے علاقے چھوٹا لاہور سے ہے۔ وہ انگریزی، پشتو اور اردو روانی کے ساتھ بولتے ہیں جبکہ وہ جیل ہی سوشل میڈیا بشمول فیس بک کو بھی استعمال کیا کرتے تھے۔ انہوں نے 1997ء میں ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی تھی۔