.

پاکستان: بنوں چھاونی دھماکے سے لرز اٹھی، 21 اہلکار جاں بحق

دھماکا سامان اور سپاہ کی ترسیل کے لئے کرائے پر لی گئی پرائیویٹ گاڑی میں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فوج کی چھاونی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں 21 اہلکار جاں بحق اور بیس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ دھماکہ چھاونی کے علاقے میں آمندی چوک پر رزمک گیٹ کے قریب ہوا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق بارودی مواد نیم فوجی دستوں فرنٹیئر کانسٹبلری "ایف سی" کی جانب سے کرائے پر لی گئی پرائیوٹ گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بنوں سے ہر ہفتے اور اتوار کو فورسز کے قافلے اہل کاروں کی تعیناتی اور سامان کی ترسیل کے لیے شمالی وزیرستان جاتے ہیں۔ یہ عمل روڈ آپریشنل ڈیپلائے منٹ کہلاتا ہے اور اس مقصد کے لیے پرائیوٹ گاڑیاں بھی کرائے پر لی جاتی ہیں۔ اتوار کی صبح بھی فورسز کا قافلہ بنوں کینٹ سے میران شاہ روانہ ہوا۔ قافلہ ابھی کینٹ کی حدود میں ہی تھا کہ رزمک گیٹ پر قافلے میں شامل ایک پرائیوٹ گاڑی میں دھماکا ہوگیا۔ دھماکا اتنا زور دار تھا کہ پورے بنوں میں اس کی آواز سنی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جس گاڑی میں بارودی مواد نصب کیا گیا اس میں ایف سی کے اہل کار سوار تھے۔ لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری اسپتال بنوں منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کرلیا اور کسی کو دھماکے کے مقام کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں کہ پرائیوٹ گاڑی کس کے ذریعے اور کس سے کرائے پر لی گئی تھی۔

دھماکے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی۔ ترجمان شاہد اللہ شاہد نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ ہم اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں سیکورٹی فورسز ہمارے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں لہٰذا اس کے خلاف ہماری کاروائیاں جاری رہے گی۔