.

پاکستان کے فوجی ہیڈکوارٹرز کے قریب دھماکہ، 14 جاں بحق

وزیر اعظم کا غیر ملکی دورہ منسوخ، فوجی سربراہ سے ٹیلی فون پر رابطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے متصل جڑواں شہر راولپنڈی میں قائم جنرل ہیڈ کوارٹرز سے متصل مارکیٹ میں پیر کی صبح سویرے بم دھماکے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق اور چوبیس افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں چھے سکیورٹی اہلکاروں سمیت طالب علم اور راہگیر بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ دھماکے کی جگہ اس فوجی ہسپتال سے تھوڑی دور واقع ہے جہاں سنگین غداری کے مقدمے میں ماخوذ سابق فوجی سربراہ اور صدر پرویز مشرف زیر علاج ہیں۔

راولپنڈی پاکستان کا فوجی شہر ہے جہاں اس اس پہلے براہ راست جی ایچ کیو بھی دہشت گردی کا ہدف بن چکا ہے۔ پیر کی صبح جس جگہ دھماکہ ہوا ہے یہ جگہ جی ایح کیو سے محض دس منٹ کے پیدل فاصلے پر رائل آرٹلری المعروف آر اے بازار میں واقع ہے۔ فوجی ہیڈ کوارٹرز کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اس سارے علاقے کو انتہائی محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

پولیس اور فوج سے متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ ایک خود کش دھماکہ محسوس ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق موقع سے دو مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور سکیورٹی سے متعلق اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

دھماکہ غیر معمولی حد تک زور دار تھا۔ اس لیے اس کی آواز دور دور تک سنائی دی۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس واقعے کی طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ فوجی شہر راولپنڈی میں یہ دھماکہ بنوں چھاونی کے علاقے میں پیش آنے والے دھماکے کے اگلے روز کیا گیا ہے۔ اس دھماکے میں بھی 25 سکیورٹی اہکار جاں بحق ہو گئے تھے۔

راولپنڈی کے مبینہ خود کش دھماکے کے بعد زخمیوں اور لاشوں کو دسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال سمیت مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ جہاں کئی زخمییوں کی حالت خطرے میں بتائی گئی ہے۔

مسلسل دوسرے روز فوجی علاقوں میں ہونے والے دھماکوں کے بعد وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اپنا غیر ملکی دورہ منسوخ کر دیا ہے اور پیر کی صبح انہوں نے فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف سے ٹیلی فون پر ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ادھر آج ہی وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی منعقد ہو رہا ہے جس میں سلامتی سے متعلق ملک کی پہلی پالیسی منظور کی جائے گی۔