.

حمص میں امداد پہنچانے کے لیے سمجھوتا طے پاگیا:روس

روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف نئی قرارداد کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور ان کے مخالف باغی جنگجوؤں کے درمیان محصور وسطی شہر حمص میں امدادی سامان کی منتقلی کے لیے بظاہر سمجھوتا طے پاگیا ہے۔

روسی ترجمان الیگزینڈر لوکاشیوچ نے جمعرات کو ماسکو میں نیوزکانفرنس کے دوران بتایا کہ ''حمص کے قدیم شہر میں انسانی امداد تک رسائی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جارہا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ تازہ موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق ''حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان بظاہر سمجھوتا پہلے ہی طے پاچکا ہے''۔ان کے اس بیان سے قبل روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف نئی قرارداد کی مخالفت کی ہے۔

اقوام متحدہ میں متعین روسی سفیر ویٹالے چرکین نے صحافیوں کو بتایا کہ ''ہم سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کے مخالف ہیں کیونکہ یہ قرارداد پر غور کرنے کا مناسب وقت نہیں ہے''۔

مغربی ممالک شام میں خانہ جنگی کا شکار علاقوں تک انسانی امداد کی بلا روک فراہمی کے لیے قرارداد منظور کرانا چاہتے ہیں کیونکہ مغربی سفارت کاروں کے مطابق اکتوبر میں شام کے محصور علاقوں تک انسانی امداد کی فراہمی کے لیے سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ صدارتی بیان سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔

شامی حزب اختلاف اور حکومتی وفد نے گذشتہ ماہ جنیوا دوم مذاکرات کے دوران حمص میں محصور شہریوں تک انسانی امداد پہنچانے سے اتفاق کیا تھا لیکن اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔حمص کے مختلف علاقوں میں باغی جنگجوؤں کا قبضہ ہے اور یہ قبضہ ختم کرانے کے لیے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے گذشتہ کئی ماہ سے اس شہر کا محاصرہ کررکھا ہے جس کے نتیجے میں وہاں موجود شہری بند ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ اپنا گھربارنہ چھوڑنے کی سزا بھوک ننگ کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی امور کی سربراہ ولیری آموس کا کہنا ہے کہ اس وقت قریباً ترانوے لاکھ شامیوں کو امداد کی ضرورت ہے مگر تشدد اور سرخ فیتے کی وجہ سے شام میں امدادی سامان پہنچانے میں تاخیر ہورہی ہے۔

امدادی ایجنسیوں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ایک کروڑ پانچ لاکھ شامیوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔پانچ سال سے کم عمر کے دس لاکھ سے زیادہ بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔شام کی قریباً نصف آبادی کی پانی کے صاف پانی یا حفظان صحت تک کوئی رسائی نہیں ہے اور چھیاسی لاکھ کو صحت عامہ کی ناکافی سہولتوں کا سامنا ہے۔

خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شامیوں کی بڑی تعداد اس وقت پڑوسی ملک لبنان میں پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہی ہے۔لبنان میں نولاکھ پانچ ہزار ،اردن میں پانچ لاکھ پچھہتر ہزار ،ترکی میں پانچ لاکھ باسٹھ ہزار ،عراق میں دو لاکھ سولہ ہزار اور مصر میں ایک لاکھ پینتالیس شامی پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے پیشین گوئی کی ہے کہ اگر شام میں حالات بہتر نہیں ہوتے اور خانہ جنگی جاری رہتی ہے تو 2014ء کے اختتام تک لبنان میں مقیم شامی مہاجرین کی تعداد بڑھ کر ساڑھے سولہ لاکھ ،اردن میں آٹھ لاکھ ،ترکی میں دس لاکھ ،عراق میں چار لاکھ اور مصر میں ڈھائی لاکھ ہوجائے گی۔