.

کراچی پولیس پر حملہ ساتھیوں کا بدلہ ہے: پاکستانی طالبان

خودکش حملے میں 13 اہلکار جاں بحق، دس کی حالت نازک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے اور ساحلی شہر کراچی کے پولیس اہلکاروں کو لے جانے والی ایک بس کو بم دھماکے کا نشانہ بنانے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔ اس حملے میں 13 پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ 46 دیگر زخمی ہوئے۔

حملے کا شکار ہونے والی بس میں سوار اہلکار بلاول ہاؤس اور سرکاری عمارات پر حفاظتی ڈیوٹیوں کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ کراچی کے علاقے رزاق آباد میں قائم پولیس ٹریننگ سنٹر سے 70 پولیس اہلکاروں کو لے کر جیسے ہی بس سڑک پر آئی وہاں پہلے سے کھڑی گاڑی میں زودار دھماکا ہو گیا۔ یہ دہشت گردانہ حملہ گذشتہ برس ستمبر میں شروع ہونے والے کراچی آپریشن کے دوران سب سے شدید حملہ ہے۔ جس کے بعد پانچ ماہ کے دوران دہشت گردی کا شکار ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد 78 ہوگئی ہے۔

پولیس افسران اور صوبائی حکومت کے وزراء اور وزیر اعلٰی سندھ نے اس دہشت گردانہ حملے کو کراچی آپریشن کا ردعمل قرار دیا ہے۔

آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ کے مطابق سی سی ٹی وی کیمرے سے حاصل ہونے والی فوٹیج سے معلوم ہوا ہے کہ صبح سات بج کر سات منٹ پر ایک شخص نے سڑک کنارے سفید رنگ کی ہائی روف کھڑی کی اور وہاں سے چلا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سات بج کر چالیس منٹ پر ہونے والا یہ دھماکہ ریمونٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔

کالعدم تحریک طالبان نے کراچی میں پولیس بس پر ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ ہم نے کراچی پولیس سے اپنے ساتھیوں کا بدلہ لیا ہے۔

وزیر اعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ نے جناح ہسپتال میں زخمی پولیس اہلکاروں کی عیادت کے دوران اس حملے کو ٹارگیٹڈ آپریشن کا ردعمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے باوجود پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور دہشت گردی کی خاتمے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا دہشت گرد بزدلانہ کاروائیوں سے حکومت کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ انہوں نے حملے میں جاں بحق اہلکاروں کے لیے 20 لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کے لیے دو لاکھ روپے امداد کا بھی اعلان کیا۔