.

ایران، پاکستان کے سرحدی کمیشن کے درمیان مذاکرات کا آغاز

اجلاس میں ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی پاکستان میں دراندازی بھی زیر بحث آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان اور ایران کے درمیان تقریبا نو سو کلو میٹر پر پھیلی سرحد پر پیش آنے والے واقعات اور دہشت گردی سے متعلق تنازعات پر دونوں ملکوں کی اعلی سطح کی ٹیموں نے آج ایران سے جڑے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں باضابطہ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب محض دوروز قبل ایران کی طرف سے پاکستان میں موجود مبینہ دہشت گردوں کیخلاف براہ راست کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران نے پاکستان کو یہ دھمکی ایسے موقع پر دی تھی جب سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز تقریبا 300 رکنی اعلی سطح کے وفد کیساتھ پاکستان میں موجود تھے۔

پاکستان میں مذاکرات کیلیے آنے والے 13 رکنی وفد کی قیادت پاکستان سے جڑے ایرانی صوبہ سیستان کے ڈپٹی گورنرعلی اصغر کر رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان کی طرف سے بلوچستان کے چیف سیکرٹری بابر یعقوب فتح محمدکی زیر قیادت محکمہ داخلہ کے ذمہ داران مذاکرات میں نمایاں ہیں۔

واضح رہے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے وفاقی حکومت کو پہلے ہی لکھ کر بھیج رکھا ہے کہ ایران کی طرف سے صوبے کی حدود میں در اندازی کی جاتی ہے۔ تاہم ابھی حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں کیا اقدام کیا ہے اس بارے میں صوبائی حکومت کو باقاعدہ طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

صوبہ بلوچستان جس کے لگ بھگ چھ اضلاع کیچ، گوادر، واشک، چاغی، پنجگوروغیرہ ایرانی سرحد کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، میں عام شکایت کی جاتی ہے کہ ایرانی سکیورٹی اہلکاران ضلاع کے اندر آکر کارروائیاں کرکے لوگوں کو ہلاک یا اٹھا کر لے جاتے ہیں۔

لیکن پاکستان کے متعلقہ ادارے وفاقی حکومت کی پالیسی کے تابع ان کے ساتھ بالعموم تعارض نہیں کرتے ہیں۔ تاہم صوبائی سیکرٹری داخلہ بلوچستان اسد گیلانی نے کہا ہے کہ اس مرتبہ مذاکرات میں ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کی بلوچستان کے اندر ہونے والی کارروائیوں پر بھی بات کی جائے گی۔

صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری داخلہ اسد گیلانی نے بتایا کہ ایرانی وفد 1960 میں قائم ہوئے مشترکہ سرحدی کمیشن کے تحت پاکستان آیا ہے اور اس سطح کے مذاکرات معمول کے مطابق سال میں دو مرتبہ ششماہی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا یہ سلسلہ کل جمعرات کے روز بھی جاری رہے گا۔ امکان ہے کہ مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی سامنے آئےگا۔ واضح رہے دونوں طرف کے وفود میں سول اور عسکری حکام شامل ہیں۔