.

طالبان نے پاکستان میں ایک ماہ کیلیے جنگ بندی کر دی

وزارت داخلہ کا خیر مقدم، دو دن میں کمیٹیوں کی ملاقات متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں قومی سلامتی پالیسی کے اعلان کے محض چند دن بعد عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے یک طرفہ طور پر ایک ماہ کیلیے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ہفتے کی شام کیا ہے۔ پاکستان کی وزارت داخلہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس سے پہلے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں نئی قومی پالیسی پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ آپریشن اور مذاکرات ساتھ ساتھ چلیں گے۔ تاہم ایک روز بعد انہوں نے کہا تھا کہ جہاں کہیں بھی آپریشن ہو گا اس کے جواب میں عسکریت پسندوں کے مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

تاہم اپوزیشن نے حکومتی پالیسی کو کنفیوژن پر مبنی قرار دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کے ساتھ طالبان کے بالواسطہ اور خفیہ رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

دوسری جانب کمیٹی کے اہم رکن پروفیسر ابراہیم نے ایک روز قبل اس قوی امید کا اظہار کیا تھا کہ جنگ بندی ہو جائے گی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ جنگ بندی دوطرفہ ہو گی یا یکطرفہ ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کی کمیٹی کے سربراہ کی عمرے سے واپسی کے بعد از سر نو حکومتی کمیٹی سے رابطوں کا امکان ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے جمعرات کی شام کہا '' ہم ملک کے اکابرین، علماء کی اپیل، طالبان کمیٹی کے احترام اور اسلام و ملک کے مفاد میں ایک ماہ کیلیے ایک ماہ کی جنگ بندی کر رہے ہیں۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان نے سنجیدگی اور نیک نیتی سے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ شاہداللہ شاہد نے اپنے اعلان جنگ بندی کے حوالے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ مرکزی قیادت کے احکامات کے بارے میں تمام حلقہ جات اور مجموعات کو عمدرآمد کیلیے کہہ دیا ہے۔ اس عرصے میں کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔

دریں اثناء حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ جس میں طالبان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ امکان ہے دونوں مذاکراتی کمیٹیوں کے کی ملاقات د ودن تک ممکن ہو جائے گی۔