سردار مہتاب احمد خان صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے حکمراں جماعت مسلم لیگ کے سینیر رہ نما سردار مہتاب احمد خان کو صوبہ خیبر پختونخوا کا نیا گورنر مقرر کردیا ہے۔

اسلام آباد میں کابینہ ڈویژن نے جمعرات کو سردار مہتاب کے تقرر کا نوٹی فیکیشن جاری کردیا ہے۔وزیراعظم میاں نواز شریف نے انھیں صوبہ خیبر پختونخوا کا گورنر مقرر کرنے کی سفارش کی تھی۔

انھوں نے منگل کو وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر کے عہدے پر نامزد ہونے کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اسی روز صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر انجینئیر شوکت اللہ بھی مستعفی ہوگئے تھے۔وہ سابق حکمراں پیپلز پارٹی کے دور سے صوبے کے گورنر چلے آرہے تھے۔

باسٹھ سالہ سردار مہتاب نوے کے عشرے میں پاکستان مسلم لیگ کی سابقہ حکومت میں صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کے وزیراعلیٰ تھے۔سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو جب منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تھا تو ساتھ ہی چاروں صوبائی حکومتوں کو بھی چلتا کیا تھا۔

سابق وزیراعلیٰ سرحد کو برطرف کرنے کے بعد مسلم لیگ نواز کے دیگر قائدین کی طرح گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انھیں اٹک قلعہ میں بند کردیا گیا جہاں انھیں مبینہ طور طور پر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس سے ان کی صحت کافی بگڑ گئی تھی۔

وہ شمال مغربی ضلع ایبٹ آباد کے علاقے باکوٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے انتخاب ہار گئے تھے لیکن صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے تھے۔ایک زمانے میں وہ ارباب اقتدار وسیاست میں اپنی بڑی بڑی مونچھوں کی وجہ سے ایک منفرد پہچان رکھتے تھے لیکن صحت خراب ہونے کے بعد وہ اس پہچان کو کھو بیٹھے تھے اور اب ان کی مونچھوں کا سائز چھوٹا ہو چکا ہے۔

گذشتہ عام انتخابات میں شمالی مغربی سرحدی صوبہ کی اسمبلی میں کرکٹر سیاست دان عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اکثریت حاصل کی تھی اور جماعت اسلامی اور بعض دوسری چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔پاکستان مسلم لیگ نے مرکز میں حکومت بنائی تھی لیکن وہ عمران خان کی جماعت کے ساتھ صوبائی حکومت میں شامل نہیں ہوئی تھی۔

سردار مہتاب کو ایسے وقت میں خیبر پختونخوا کا گورنر مقرر کیا گیا ہے جب پاکستانی حکومت اور ملک کے شمالی مغربی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرپیکار طالبان جنگجوؤں کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔وہ گورنر کی حیثیت سے ان مذاکرات کے لیے سہولت کنندہ کا کردار ادا کریں گے اور اگر یہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر وہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں مرکزی حکومت کے اعلیٰ نمائندے کی حیثیت سے امن وامان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ امن معاہدے پر عمل درآمد اور تعمیر وترقی کے عمل کی نگرانی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں