.

ٹی ٹی پی کا جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ

حکومت پر 40 روزہ جنگ بندی کے دوران مطالبات کا مثبت جواب نہ دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت پر چالیس روزہ جنگ بندی کے عرصے کے دوران تنظیم کے مطالبات پر مثبت ردعمل ظاہر نہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے بدھ کو جاری کردہ اپنے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ ''حکومت ایک امن علاقے کے قیام ،غیر جنگجو افراد کی رہائی اور قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو روکنے سے متعلق طالبان کے حقیقت پسندانہ مطالبات کا مثبت جواب دینے میں ناکام رہی ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ انھوں نے تو اعتماد کی فضا پیدا کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے لیکن حکومت اس کے جواب میں ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔انھوں نے حکومت پر فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا الزام عاید کیا جن میں پچاس سے زیادہ طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا اور دوسو سے زیادہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ان کے بہ قول حکومت نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک بھر میں پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جنگ بندی کی ڈیڈلائن تو چھے روز قبل (10 اپریل کو) ختم ہوگئی تھی لیکن اس کے باوجود حکومتی صفوں میں امن مذاکرات کے حوالے سے پُراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے۔اس صورت حال کے پیش نظر ٹی ٹی پی کی شوریٰ کونسل نے متفقہ طور پر جنگ بندی میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم حکومت کے کسی بھی مثبت ردعمل کا ایسا ہی جواب دینے کے لیے تیار ہے تاکہ امن عمل جاری رہے۔

درایں اثناء وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ٹی ٹی پی کے سربراہ عمر خالد خراسانی نے بھی الگ سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ حکومت امن عمل کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے اور حقیقی شریعت کے نفاذ کا واحد راستہ جہاد ہے۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے یکم مارچ کو ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔اس کے چوبیس گھنٹے کے بعد حکومت نے بھی قبائلی علاقوں میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر حملے روکنے کا اعلان کردیاتھا۔اس جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یکم اپریل کو طالبان نے اس میں دس روز کی توسیع کردی تھی تاکہ حکومتی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کو تعطل دور کرنے کا ایک اور موقع مل سکےم گر اس دوران دونوں کمیٹیوں کے درمیان بات چیت میں طالبان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔