.

ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے پر اتفاق

پاکستان، تہران سے تجارت کو پانچ ارب ڈالرز تک بڑھانا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ملاقات میں گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے 'اے پی پی' کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے ملاقات میں ایرانی صدر کو بتایا کہ گیس پائپ لائن منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اپنی فنانس، پیٹرولیم اور معاشی ٹیم کے ہمراہ ایران کے دورے پر آئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی دو روزہ دورے کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف ایسے وقت میں ایران کے دورے پر گئے ہیں جب فروری میں پانچ ایرانی سرحدی محافظوں کے اغوا ہونے کے بعد سے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا۔

اغوا کیے گئے پانچ میں سے چار ایرانی سرحدی محافظ بازیاب کرائے جا چکے ہیں جب کہ ایک کو اغوا کاروں کی جانب سے قتل کیے جانے کا دعوی کیا گیا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ مغوی سرحدی محافظوں کو اغوا کے بعد پاکستان میں رکھا گیا تاہم پاکستان نے ایران کے بیان میں تردید کی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے ملاقات کے دوران ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جسے قبول کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں تجارت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ "پاکستان، ایران کےساتھ تعلقات کا نیا باب کھولنا اور دو طرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتا ہے۔"

یاد رہے کہ فروری میں پاکستان کی جانب سے ساڑھے سات ارب ڈالر لاگت کی پاک-ایران گیس پائپ لائن پر کام معطل کرنے کی وجہ سے بھی دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔