عدالت عالیہ: دولت واپس لاو، وزیر اعظم کو نوٹس جاری

63 دوسرے اہم سیاستدانوں کو بھی نوٹس اخبارات کے ذریعے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر اور سب سے بڑے ثقافتی مرکز لاہور میں عدالت عالیہ نے ملک سے باہر لے جائی گئی وزیر اعظم میاں نواز شریف ، ان کے چھوٹے بھائی وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت ملک کے 64 اہم اور معتبر سیاست دانوں کو اپنی دولت غیر ملکی بنکوں سے وطن واپس لانے کیلیے ذرائع ابلاغ کے ذریعے نوٹس جاری کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ حکم منگل کے روز اس وقت جاری کیا گیا جب عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ اہم ترین سیاستدانوں نے اس سلسلے میں عدالت عالیہ کی طرف سے جاری کیے گئے پہلا نوٹس وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جس پر عدالت نے ازسر نو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا اب کی بار یہ نوٹس اخبارات میں اشتہاری شکل میں سامنے لائے جائیں تاکہ متعلقہ شخصیات تک عدالتی حکم پہنچ جائے۔

دلچسپ بات یہ کہ حکومت نے خود بھی یہ اعلان کر رکھا ہے کہ غیر قانونی طور پر ملک سے باہر پڑی دولت واپس لائی جائے گی۔ لیکن حکومت کے اہم ترین افراد نے بھی اس بارے میں خود کو عدالت سے جاری ہونے والے احکامات وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ حکومت کی طرف سے اسی ماہ کے دوران یہ عندیہ ظاہر کیا گیا تھا کہ حکومت غیر قانونی طور پر سوئس بنکوں میں رکھے پاکستانی شہریوں کے 200 ارب ڈالر واپس لانے کیلیے سوئس حکومت سے رابطے کر چکی ہے۔

معروف قانون دان بیرسٹر جاوید اقبال جعفری کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان شخصیات کے سینکڑوں ارب ڈالر غیرملکی بنکوں میں ہیں یا ان کے اثاثہ جات بیرون ملک ہیں۔ جبکہ ملکی معیشت کی دگرگوں حالت کی وجہ سے ضروری ہے کہ سیاستدان اپنی دولت واپس لائیں۔ درخواست کنندہ کا موقف ہے کہ ملک غیر معمولی قرضوں کے موجودہ کلچر سے اس صورت میں ملک نجات پانے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔

خیال رہے موجودہ حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے مزید قرضے لے کر ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھا دیا ہے، اس وجہ سے ملک کا ایک ایک بچہ بشمول شیر خواران تقریبا ایک لاکھ روپے کے مقروض ہیں۔ پاکستان میں یہ الزامات سیاستدانوں پر عام طور پر لگائے جاتے ہیں کہ پاکستان کی اہم جماعتوں کے اہم ترین رہنماوں کی بڑی تعداد ملک سے باہر اثاظے رکھتی ہے اور اپنا سرمایہ واپس ملک میں لانے کو تیار نہیں ہیں۔

بیرسٹر جاوید اقبال نے '' العربیہ '' سے بات کرتے ہوئے کہ '' ان کی یہ درخواست 19996 سے عدالتوں میں زیر التوا تھی، جسے انہوں نے از سرنو پیش کیا ہے۔ '' ان کے بقول 1985 سے اب تک 500 امیر خاندانوں نے 300 ارب ڈالر کی خطیر رقم ملک سے باہر بھجوائی ہے، ان میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان نے 325 ملین ڈالر ملک سے باہر بھجوائے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ایک روپیہ بھی ملک میں نہیں لائے ہیں۔ '' انہوں نے مزید کہا اس سے پہلے ملک سے روپیہ باہر لے جانے کیلیے سٹیٹ بنک سے اجازت لینا قانونی ضرورت تھی لیکن شریف خاندان نے اپنی حکومت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ قانون تبدیل کرا دیا۔ ''

ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر جاوید اقبال نے کہا '' بے نظیر اور ان کے شوہر آصف علی زرداری ملک سے باہر 150 ملین ڈالر لے کر گئَے ہیں، جبکہ ان بڑے خاندانوں نے اپنی رقم سوئٹزر لینڈ کے علاوہ برطانیہ ، امریکا ، لکسمبرگ اور مناکو وغیرہ کے بنکوں میں بھی رکھی ہے ،اس لیے جب بھی باہر سے رقم واپس لانے کی بات کرتے ہیں تو ان ملکوں کا ذکر گول کر دیا جاتا ہے۔ ''اس اہم مقدمہ کی اگلی سماعت 16 جون کو ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں