پاک بھارت وزرائے اعظم کی خاندانی سطح پر دوستی شروع
شال اور ساڑھی کے تبادلے سے پہلے جذبہ محبت کا تبادلہ
پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان خاندانی سطح پر دوستی کی شروعات ہو گئی ہیں۔ جس کی تازہ مثال وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی والدہ کے لیے بھجوائی گئی قیمتی اور خوبصورت سفید ساڑھی ہے۔
اس سے پہلے نریندر مودی نے میاں نواز شریف کے بھارتی دورے کے موقع پر ان کی والدہ کیلیے ایک خوبصورت شال کا تحفہ بھیجا تھا۔ جس پر میاں نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے انکل مودی کا شکریہ ادا کیا تھا کہ ''آپ کا شکریہ آپ نے میری دادی کو شال کا تحفہ بھیجا ۔''
اس محبت کی ایک وجہ نریندر مودی کا انتخابی جیت کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار بنا تھا۔ اس جذبے سے میاں نواز شریف اور ان کی والدہ خوب متاثر ہوئی تھی۔ میاں نواز شریف نے اس جذبے کا اظہار نئی دہلی میں مودی سے ملاقات کے موقع پر بھی کیا تھا۔
میاں نواز شریف کے خاندان کے لیے بھارتی مہمانوں کا تحفے تحائف لانا اور میاں نواز اور ان کے اہل خانہ کا یہاں سے تحائف بھیجنا نئی بات نہیں ہے۔ بھارتی فلموں اور غزلوں کی کیسٹس کا تحائف کی صورت یہاں آنا ایک پرانا سلسلہ ہے جو کافی عرصے سے چل رہا ہے۔
نریندر مودی کے ساتھ بھی اب خاندانی سطح پر قربت بڑھنے کی بنیاد دونوں طرف سے رکھ دی گئی ہے۔ لیکن کشمیر کے حریت رہنما سید علی گیلانی نے نریندر مودی اور ان کی والدہ کے لیے میاں نواز شریف کے اس والہانہ پن پر ان کی توجہ ان کشمیری ماوں کی جانب مبذول کرائی ہے جن کے بیٹوں کو ایک دو کی تعداد میں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں شہید کیا گیا ہے۔
واضح رہے میاں نواز شریف کی طرف سے اپنے دورہ نئی دہلی کے موقع پر کشمیری قائدین کے لیے وقت نہ نکال سکنے پر پہلے ہی سید علی گیلانی سمیت کشمیری رہنما خوش نہیں ہیں۔ اگرچہ میاں نواز شریف نے اٹل بہاری واجپائی ہی نہیں بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی و دیگر سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔
بھارت کے ''گجرات فیم'' وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ٹوئٹر پر سفید ساڑھی کے تحفے کی وصولی اور شکریے پر فی الحال گجرات کے مودی متاثرہ مسلمانوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے جو مودی صاحب کے اصل زخم خوردہ ہیں۔ اس لیے امکان ہے کہ دو حریف ملکوں کے وزرائے اعظم کے اہل خانہ کے درمیان دوستی کا تعلق آگے بڑھ سکے گا۔