.

قادری کا جہاز اسلام آباد کے بجائے لاہور اتر گیا

کینیڈین شہری کا پاکستانی فوج سے صورتحال نوٹس لینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو دبئی سے لیکر آنے والی امارات ائیر لائینز کی فلائٹ ای کے 612 اسلام آباد کے بجائے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر اتر گئی ہے، تاہم علامہ طاہرالقادری نے جہاز سے اترنے کے بجائے جہاز کو واپس اسلام آباد لے جانے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ دفاعی ادارے اس صورت حال کا نوٹس لیں۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ طاہر القادری نے غیر ملکی فضائی کمپنی کا جہاز 'ہائی جیک' کر لیا ہے اور وہ ہائی جیکروں کی طرح اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈے پر ہزاروں افراد موجود ہیں، ان میں کون طاہر القادری کے کارکن ہیں اور کون دہشت گرد، اس کی تفریق کرنا ممکن نہیں ہے، اسی لئے حکومت نے طاہر القادری کو بذریعہ ہیلی کاپٹر ان کے گھر پہنچانے کا انتظام کیا ہے۔

کینیڈا اور پاکستان کی دوہری شہریت کے حامل طاہر القادری کی ملک میں آئینی، سیاسی اور انتخابی اصطلاحات کی مہم کے طور پر پر یہ دوسری مرتبہ پاکستان آمد ہے۔ ان کی اس بار وطن آمد کے اعلان کے بعد ان کی عالمی سطح پر کام کرنے والی این جی او تحریک منہاج القرآن کے کم از بارہ کارکن مبینہ طور پر لاہور پولیس کی فائرنگ سے پچھلے ہفتے کے دوران ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

منہاج القرآن کے سربراہ نے اس موقع پر 23 جون کو پہلے سے اعلان کردہ تاریخ کے مطابق پاکستان آنے کے عزم کو دہرایا اور کہا وہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر اترنے کےبعد لاہور پہنچیں گے۔ ان کے استقبال کے لیے اسلام آباد جانے کی کوشش کرنے والے کارکنوں کو پولیس نے راستوں میں روک دیا، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی مسلم لیگ کے رہنماوں کو بھی اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچنے سے روک دیا گیا ہے۔

اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت راستے کے شہروں میں حکومت نے سخت انتظامات کر رکھے ہیں۔ علامہ طاہر القادری کو امارات ائیر لائنز کے طیارے ای کے 612 سے صبح ساڑھے آٹھ بجے اسلام آباد اترنا تھا لیکن پندرہ منٹ کی تاخیر سے طیارہ جونہی اسلام آباد کی فضا میں داخل ہوا سول ایوی ایشن حکام نے اسے اپنا رخ لاہور ائیر پورٹ کی طرف موڑنے کا حکم دے دیا۔

اس حکم کے بعد طیارہ لاہور کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بحفاظت اتر گیا، تاہم ایک مسافر کی صحت بگڑ گئی جسے طبی امداد دی جارہی ہے۔

دوسری جانب علامہ طاہرالقادری نے لاہور میں طیارے سے باہر نکلنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے یہ ریاستی دہشت گردی کی انتہا ہے۔ ملکی دفاعی ادروں کا اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

ائیر پورٹ جسے سادہ اور یونیفارم میں موجود سینکڑوں اہلکاروں نے گھیرے میں لیے ہوا ہے طاہر القادری کا اس پر تحفظات کا اظہار سامنے آیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے حکومت نے پولیس یونیفارم میں مسلح دہشت گرد تعینات کر رکھے۔

تھوڑی دیر مین حکام علامہ قادری سے مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ معاملے کو سنبھالا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق طاہر القادری کو ان کے گھر میں نظر بند کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کچھ سال قبل تقریبا اسی طرح کی صورت حال کا سامنا موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلی شہباز شریف کو پرویز مشرف آمریت میں سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔