عوامی تحریک کارکنوں نے اسلام آباد میں قبریں کھودنا شروع کر دیں
عمران اور ڈاکٹر قادری کے حتمی اعلانات کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے
اسلام آباد میں گذشتہ دو ہفتوں سے اپوزیشن کی دو جماعتوں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک دارلحکومت کی مرکزی شاہراہ دستور پر اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے آج بروز بدھ شام چھے بجے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئی دھکمی دی تھی کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو دما دم مست قلندر ہو گا۔ اس اعلان کے بعد بدھ کی صبح سے ہی ڈاکٹر قادری کے کارکنوں نے قبروں کی کھدائی شروع کر دی۔ شاہراہ دستور کو مکمل طور پر خالی نہیں کیا گیا ہے۔
منہاج القرآن اور مختلف رفاعی تنظیموں نے دھرنے کے کارکنوں میں ناشتہ تقسیم کیا ۔ دھرنے کی جگہ پر کوڑا کرکٹ کے ڈھیر بھی دیکھنے میں آئے۔ کارکنوں کو سخت موسم کے ساتھ ساتھ صحت و صفائی کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ دھرنے کے شرکا جلدی بیماریوں گلے کے انفیکشن اور پیٹ کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ عوامی تحریک نے کارکنوں کے لئے موبائل میڈیکل سینٹرز قائم کر رکھے ہیں جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
دوسری طرف سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود شاہراہ دستور آج بھی مکمل طور پر خالی نہ کرائی جا سکی۔جج صاحبان کو سپریم کورٹ جانے کیلئے کابینہ سیکرٹریٹ والا دروازہ استعمال کرنا پڑا۔ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے قبروں کی کھدائی بھی شروع کر دی ہے اکثر کارکن کھدائی کے بعد قبروں میں لیٹ گئے۔
-
2013ء کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چُرایا گیا؟
اسلام آباد میں جاری سیاسی بحران میں ایک نئے کردار کا اضافہ
پاكستان -
اسلام آباد کا مارچ اور واشنگٹن کا انقلابی اجتماع
امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان میں عمران خان کے ’’آزادی مارچ‘‘ ...
سیاست -
عمران خان کا وزیراعظم کے استعفے پر اصراربرقرار
عدالتِ عالیہ کا شریف برادران سمیت 21 حکام پر مقدمہ درج کرنے کا حکم
پاكستان