علامہ طاہر القادری کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام

آج یومِ انقلاب کا اعلان، اہم تقریر کریں گے ،حکومت کی مذاکرات کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بدھ کی شب حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ اب مذاکرات کے دروازے بند ہو چکے ہیں اور حکومتی مذاکرات کار اب ان کے پاس بات چیت کے لیے نہ آئیں۔

علامہ طاہرالقادری سے ان کے اس اعلان سے پہلے دو وفاقی وزراء اسحاق ڈار اور زاہد حامد نے ان کے کنٹینر میں ملاقات کی۔علامہ قادری نے ان کے سامنے اپنی دو بنیادی شرائط پیش کیں۔ایک یہ کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف مستعفی ہوجائیں اور عدالتِ عالیہ کے حکم کے مطابق وزیراعظم میاں نواز شریف ،چار وفاقی وزراء سمیت اکیس افراد کے خلاف عوامی تحریک کے چودہ کارکنان کے قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

علامہ طاہرالقادری نے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے آزادی مارچ کے شرکاء سے جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کے یہ دونوں مطالبے نہیں مانے ہیں۔انھوں نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ ''وہ جمعرات کو دوپہر کے کھانے کے وقت یوم انقلاب کے لیے جمع ہوجائیں۔وہ دھرنا دینے والے لوگوں زیادہ دیر تک نہیں روکیں گے اور آج ہی فیصلہ کرلیا جائے گا''۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی قسمت تبدیل ہوجائے گی اور وہ اپنی حتمی تقریر کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ''جمہوریت کو آخری وقت تک موقع دیا ہے لیکن ان کے مطالبے تسلیم نہیں کیے گئے ہیں۔اب ہم اپنا فیصلہ کریں گے۔ البتہ اب ہم پر اخلاقی بوجھ ختم ہوگیا ہے۔ میں حتمی اور قطعی طور پر کہ رہا ہوں کہ ہمارے اوپر اب کوئی اخلاقی بوجھ نہیں رہا ہے''۔

علامہ طاہر القادری کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کے اعلان پر وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویز رشید نے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تو پہلے دن سے لچک دکھائِی جارہی ہے۔اس نے ان کو مارچ کے لیے اسلام آباد آنے دیا۔پہلے ان لوگوں نے آب پارہ میں دھرنا دیا پھر یہ لوگ غیر قانونی طور پر ریڈ زون میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے اٹھ آئے مگر حکومت نے انھیں روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

انھوں نے عوامی تحریک کے سربراہ کے دو مطالبات کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کہا کہ ''حکومت آج اس بات پر آمادگی ظاہر کردی ہے کہ وزیراعظم میاں نوازشریف ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں نوازشریف اور چاروفاقی وزراء سمیت اکیس حکام کے خلاف قتل کی جھوٹی ایف آئی آر درج کر لی جائے لیکن اس نے اس کے بدلے میں صرف ایک شرط عاید کی ہے کہ دھرنے میں شریک خواتین اور بچوں کو ان کے گھروں کو واپس جانے دیا جائے''۔

وزیراطلاعات نے کہا کہ ''ہم نے تو براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کیے ہیں۔اب بھی ہمارے دروازے کھلے ہیں''۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ عوامی تحریک کے کارکنان اگر پُرامن رہتے ہیں تو پھر انھیں کچھ نہیں کہیں گے لیکن اگر وہ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں تو پھر قانون خود اپنا راستہ بنائے گا۔انھوں نے واضح کیا کہ اگر لشکر کشی کی بنیاد پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سے استعفے دینےکی ریت پڑ گئی تو ہماری آیندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے والے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھِی وزیراعظم میاں نواز شریف کے استعفے تک حکومت سے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔وہ بار بار اپنے اس مطالبے کو دُہرا رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کو مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے دوران اقتدار میں نہیں رہنا چاہیے۔عمران خان نے بھی کہا ہے کہ وہ جمعرات کو اپنے آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

ان دونوں لیڈروں کے احتجاجی دھرنوں سے پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنا ترکی کا دوروزہ دورہ منسوخ کردیا ہے۔وہ ترکی کے نومنتخب صدر رجب طیب ایردوآن کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے جمعرات کو انقرہ روانہ ہونے والے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں