طالبان کمانڈر خلیفہ بغدادی کی بیعت میں داخل

شاہداللہ شاہد سمیت 6 کمانڈروں کا داعش کے احکام ماننے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان( ٹی ٹی پی) کے ترجمان شاہداللہ شاہد سمیت چھے مرکزی کمانڈروں نے شام اور عراق میں برسرپیکار جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی بیعت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان کمانڈروں نے داعش کے ساتھ یہ ناتا وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاک آرمی کے آپریشن کے بعد جوڑا ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے جنگجوؤں کی قیادت کریں گے اور داعش کے خلیفہ کے احکامات مانیں گے۔

شاہداللہ شاہد نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں داعش کے ساتھ اظہاروفاداری کیا ہے لیکن اس بیان میں انھوں نے افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں کے امیر ملا محمد عمر کے حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے حالانکہ افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالبان جنگجو گروپ انھیں امیرالمومنین قرار دیتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان نے اردو اور عربی میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''میں امیرالمومنین ابوبکرالبغدادی کے ساتھ بیعت کی تصدیق کرتا ہوں اور ہر طرح کے حالات میں ان کے تمام فیصلوں کی پاسداری کروں گا۔میں ان کا وفادار رہوں گا اور ان کے احکامات کی تعمیل کروں گا''۔

ان کے بیان کے مطابق جن پانچ دوسرے کمانڈروں نے داعش کے خلیفہ کی بیعت کا اعلان کیا ہے،ان میں اورکزئی ایجنسی میں ٹی ٹی پی کے امیرسعید خان ،ٹی ٹی پی کرم ایجنسی کے امیر دولت خان،خیبرایجنسی میں ٹی ٹی پی کے سربراہ فتح گل زمان ،ضلع پشاور کے امیر مفتی حسن اور ٹی ٹی پی ضلع ہنگو کے امیر خالد منصور شامل ہیں۔

شاہداللہ شاہد نے وضاحت کی ہے کہ وہ یہ بیان اپنی اور ان پانچ مذکورہ کمانڈروں کی جانب سے جاری کررہے ہیں اور اس کا ٹی ٹی پی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ نے پہلے ہی خلیفہ البغدادی کی حمایت کا اعلان کررکھا ہے لیکن انھوں نے داعش کی بیعت نہیں کی ہے۔ملافضل اللہ کی قیادت میں طالبان جنگجوؤں نے ملا محمد عمر کی بیعت کررکھی ہے۔

طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ قبل ازیں تین مرتبہ خلیفہ البغدادی کے ساتھ اپنی بیعت کا اظہار کرچکے ہیں اور اب چوتھی مرتبہ ان کی بیعت کررہے ہیں۔ان کا اس سے پہلے ایک اور جنگجو ابوالخطاب شامی کے ذریعے ٹیلی فون پر ابوبکر بغدادی سے رابطہ بھی ہوا تھا۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کو شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب میں سخت ہزیمت کا سامنا ہے اور اس کے بہت سے جنگجو اس کارروائی میں مارے جاچکے ہیں جبکہ بچے کچھے جنگجوؤں میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری ہے اور اس کی صفوں میں قیادت کے مسئلے پر بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے بااثر محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈروں نے 2013ء میں جنگجو گروپ کے سابق امیر حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ملافضل اللہ کو اپنا قائد ماننے سے انکار کردیا تھا۔اب داعش طالبان کے دھڑوں کے درمیان اختلافات سے فائدہ اٹھا کر جنوبی ایشیا میں اپنے قدم جمانے اور اپنے بین الاقوامی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہے اور اس وقت وہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

داعش نے عراق کے پانچ صوبوں اور شام کے مشرق سے شمال تک ایک بڑے علاقے پر اپنی خلافت قائم کررکھی ہے۔ان دونوں ممالک میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں لیکن ان کی جانب سے بھرپور فضائی قوت کے استعمال کے باوجود وہ اس کے جنگجوؤں کی پیش قدمی روکنے میں ناکام رہے ہیں اور داعش نے برسرزمین اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں